30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کذب ظاہر ہوا کہ جو وقت اس نے انقضائے عدت کا بتا یا تھا اس سے چھ۶ مہینے کے اندر بچہ ہوا تو ان صورتوں میں پہلا بچہ جو بعد طلاق ہوا ہے علی الاطلاق شوہر ہی کا ٹھہرے گا طلاق سے بیس برس بعد پیدا ہوا کہ طہر کےلئے زیادت کی جانب کوئی حد مقرر نہیں، ممکن ہے کہ تین حیض تیس برس میں آئیں تو انقضائے عدت نہ فی نفسہٖ ثابت ہوا نہ عورت کے اقرار مقبول سے،لاجرم اس کا پیٹ میں رہنا ایامِ نکاح میں تھا یازمانہ عدت میں ہر طرح نسب ثابت ہے کہ طلاق رجعی میں شوہر جب عدت کے اندر وطی کرے تو وہ حرام نہیں ہوتی بلکہ رجعت ہوجاتی ہے ولہذا عدت ہی میں حمل رہنا ثابت نہ ہوا بلکہ محتمل کہ طلاق سے پہلے کا ہو تو اس کی ولادت مثبت رجعت نہ ہوگی بلکہ مثبت انقضائے عدت ہوگی کہ وضعِ حمل کے بعد بقائے عدت کے کوئی معنی نہیں،اس صورت میں اور بچے جواسی کی ولادت کے چھ مہینے یا زائد کے بعد پیدا ہوئے شوہر کے نہیں ٹھہرسکتے کہ ان کا پیٹ میں رہنا نہ ایامِ نکاح میں ہو انہ زمانہ عدت میں،ہاں اگر دوسرا بچہ اس سے پہلے کی پیدائش سے چھ مہینے کے اندر ہوگیا تو یہ بھی شوہر کا قرار پائے گا کہ چھ۶ مہینے سے کم میں دوسرے حمل کا بچہ نہیں ہوسکتا،لاجرم یہ اسی کے ساتھ تھا،اور اگر طلاق بائن تھی اگرچہ مغلظہ ہواور عورت اپنے شوہر کی مدخولہ تھی اوراس نے ہنوز انقضائے عدت کے اقرار مقبولہ بمعنی مذکور کیا تھا کہ طلاق سے دو۲ برس کے اندر بچہ ہوا تو بھی شوہر کا ٹھہرے گا کہ اس کا پیٹ میں رہنا ایام نکاح میں محتمل ہے،اور دو برس کے بعد ہوا تو اب حمل زمانہ نکاح کا تو یقینا نہ تھا نہ ایامِ عدت کا ٹھہراسکتے ہیں کہ بے نکاح جدید عدت بائن میں قربت حرام ہے،اس صورت میں ناچار شوہر کا نہ ہوگا مگریہ کہ وہ اپنا ایك بچہ ہولیا تھا یہ دوسرا اس سے چھ۶ مہینے کے اندر ہوگیا تو بوجہ سابق اسے بھی شوہر کا ٹھہرادیں گے،بالجملہ اتنی صورتیں ہیں جن میں یہ بچے کل یا بعض شوہر ہی کے ٹھہریں گے اور ثابت النسب ہوں گے اور انہیں ولد الزنا کہنا ناجائز ہوگا،اور اگر بالفرض ان صورتوں سے کوئی شکل نہ پائی جائے تو غایت یہ کہ شوہر کے نہ ٹھہریں ولدالزنا یامجہول النسب ہوں،بہر حال زانی کے کسی طرح نہیں ٹھہر سکتے نہ اسے ان پر کوئی استحقاق ودعوٰی۔تنویر الابصار و درمختار وردالمحتار میں ہے:
|
یثبت نسب ولد معتدۃ الرجعی وان ولدت لاکثر من سنتین ولو لعشرین سنۃ فاکثر لاحتمال امتداد طھرھا وعلوقھا فی العدۃ مالم تقربمضی العدۃ وکانت الولادۃ |
رجعی طلاق کی عدت والی کے ہاں بچہ پیدا ہوتو نسب اسی خاوند کا ہوگا اگرچہ یہ بچہ طلاق سے دو سال،بیس سال یا بیس سال سے بھی زیادہ عرصہ میں پیدا ہو اہو کیونکہ ہو سکتا ہے کہ نطفہ عدت میں ٹھہرا ہو اور عدت کے دوران طہر طویل ہوئے ہوں تا وقتیکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع