30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تزوجت معتدۃ بائن فولدت لاقل من سنتین مذبانت ولنصف حول مذتزوجت عن البدائع انہا للثانی معللا بان اقدامھا علی التزوج دلیل انقضاء عدتھا،حتی لو علمہ بالعدۃ فالنکاح فاسد وولدھا للاول [1]اھ ملتقطا،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
بائنہ طلا ق کی عدت والی نے نکاح کرلیا پھراس نے بائنہ طلاق کے وقت سے دو سال کے اندر اندر دوسرے نکاح سے چھ ماہ کے بعد بچے کو جنم دیا،تو بدائع سے منقول ہے کہ یہ بچہ دوسرے کا ہوگا،اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا عورت کا دوسرے نکاح کےلئے اقدام کرنا عدت ختم ہونے کی دلیل قرار دی جائیگی حتی کہ اگر مرد و عورت دونوں کو معلوم ہو کہ عدت ابھی باقی ہے،تو یہ نکاح فاسد ہوگا،اور بچہ پہلے خاوند کا قرار دیا جائے گا،ملتقطا،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ١١٨: ٢٧جمادی الآخرہ١٣١٦ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بیوی کو یہ کہہ کر نکال دیا کہ عورت خراب اور بدکار ہے،پس وہ عورت مذکورہ ایك مدت آوارہ طور پر پھر اکی،اب زید نے اس عورت کو اپنے مکان میں لاکر رکھ لیا،مکان میں داخل ہونے کے تین ماہ بعد دختر پیداہوئی،اس صورت میں اول تو یہ کہ زید کا نکاح نکاح رہا یا نہیں؟دوسرے یہ کہ وہ لڑکی زید کی قرار دی جائے گی یاحرام کی؟کیونکہ ایام آوارگی میں کبھی زید کے پاس نہیں آئی،اور اب زید نے جو اس عورت کو پھر رکھا ہے نکاح کرے یانہیں؟اور زید عورت کے نکال دینے پر اور پھر رکھ لینے پر از روئے شریف مستوجب کسی سزا ہے؟
الجواب:
صرف نکال دینے سے زید کے نکاح میں کچھ فرق نہ آیا،لڑکی زید ہی کی قرار پائے گی اگرچہ ایام آوارگی میں یہ عورت کبھی زید کے پا س نہ آتی اور مکان میں واپس آتے ہی اسی دن لڑکی پیدا ہوجاتی۔
|
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الولد للفراش وللعاھرالحجر[2]۔ |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:بچے کا نسب نکاح والے سے ہوگا اور زانی کو محرومی ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع