30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قبول الشہادۃ [1]اھ ملخصا وفیہ من الفصل ١١من اختلاف الدعوی والشہادۃ لو شھداحدھما بنکاح والاخرباقرار بہ لایقبل کغصب[2] |
اختلاف شہادت کے قبول کرنے کے لئے مانع ہوگا اھ،ملخصًا، اسی میں فصل ١١ اختلاف دعوےٰ و شہادت سے ہے کہ ایك نے نکاح اور دوسرے نے اس کے اقرار پر شہادت دی تو یہ مقبول نہ ہوگی جیسا کہ غصب میں بھی یہی حکم ہے۔ (ت) |
پس جبکہ شوہر کا فراش صحیحہ ثابت اور اسد علی خاں کے نکاح کا اصلًا ثبوت نہیں کہ برتقدیر تزوج بحالت ناواقفی از نکاح غیر فراش فاسد حقیقی ٹھہر کر فراش صحیح حکمی پر بربنائے روایت مفتی بہا ماخوذ للامام الثانی مرجح رہی،کما حققہ فی الدرالمختار و اوضحہ فی ردالمحتار(جیسا کہ درمختار میں ا سکی تحقیق کی ہے اور ردالمحتار میں اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ت)تو بحکم حدیث صحیح متواتر الولد للفراش وللعاھراالحجر(بچے کا نسب نکاح والے کے لئے ہے اور زانی کے لئے محرومی ہے۔ت)وہ لڑکا شرعًا اسی بدایونی کا قرار پائے گا مالم ینف لعانا(جب تك لعان سے نسب کی نفی نہ کرے۔ت)اسد علی خان سے کوئی علاقہ نہیں رکھتا کہ اس کا وارث ہوسکے واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ١١٦:کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عورت بعد وفات اپنے شوہر کے کس قدر ایام تك نکاح کرنے سے ممنوع ہے اگر درمیان عدت کے عورت مذکورکے ساتھ کوئی شخص نکاح کرلے تو وہ نکاح صحیح ہے یانہیں اور اولاد جو نکاح مذکور کے بعد پیدا ہوگی وہ صحیح النسب سمجھی جائیگی یا کیسے؟بینوامع حوالۃ الکتاب۔
الجواب:
اگر حامل ہے تو وضع حمل تك ورنہ چار مہینے دس دن تك نکاح نہیں کرسکتی کما ھو منصوص فی القراٰن العزیز(جیسا کہ اس کے بارے میں قرآن کریم میں نص وارد ہوئی ہے۔ت):
|
وَالَّذِیۡنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنۡکُمْ وَیَذَرُوۡنَ اَزْوٰجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّعَشْرًاۚ[3]۔ |
اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع