30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
سے،تو ظاہر ہے کہ دونوں کے علاوہ کسی غیر کا ہے اور وہ غیر ضروری نہیں کہ زنا ہو،ہوسکتا ہے کہ یہ حمل وطی بالشبہہ کی وجہ سے ہوا ہو،اور یہ نکاح صحیح نہ ہوگا مگر جب معلوم ہوجائے کہ یہ حمل زنا سے ہے،پھر زیلعی وغیرہ کا گزشتہ کلام آخر تك ہے،پس اس میں غور کرنا چاہے اھ، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ١١٥: ٤ ربیع الآخر شریف١٣٠٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ مجیدن ساکنہ بدایوں عرصہ ٢٢سال ہوا کہ اپنے گھر سے بھاگ کر خدامعلوم کہاں کہاں رہی بعد دوبرس کے معلوم ہوا کہ نوکری آیا گیری کرلی چنانچہ وہاں کا حمل بھی رہا اور دعوٰی ایك انگریز پر اس حمل کاکیا پھر بریلی میں مسمی اسد علی خاں سے ملاقات کرلی اور اس حمل کو اسد علی خاں کی یہاں وضع کیا،بعد وضع کے ایك ماہ اور رہی،اور پھر بچہ چھوڑ کر بھاگ گئی،اور نوکری آیا گیری کرلی،وہاں اسد علی خاں بھی پہنچے اور چندسال کے بعد وہیں انتقال کیا،وہ عورت بعد انتقال اسد علی خاں کے آوارہ پھرتی رہی اور کئی بچے پیداہوکر مرگئے،ان میں سے ایك لڑکا پندرہ برس کا اور ایك سال بھر کاموجود ہے،جس مدت میں کہ اس علی خاں سے ملاقات سے ملاقات تھی پردہ میں ہرگز نہیں رہی اس کے نکاح کا کوئی گواہ کامل نہیں،ممّن میاں بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب اسد علی خاں کو بہت غیرت دلائی تو کہا کہ میں نے نکاح کرلیا ہے۔چند امیاں بیان کرتے ہیں کہ میرے سامنے ہوا تھا اس کی عمر اس وقت تیس برس کی ہے اور بوقت نکاح کی دس برس کی تھی کیونکہ اس واقعہ کو بیس برس پورے ہوگئے تو ان کی شہادت بوقت نابالغی کی ہے اور جو لڑکا کہ پندرہ یا سولہ برس کا ہے اس کو اسد علی خاں کا بتاتے ہیں،پس اس صورت میں استفسار ہے کہ یہ عورت بدایوں والے خاوند کے نکاح میں رہی یانہیں،اور ممّن میاں جو اسد علی خاں کے قول کو نقل کرتے ہیں یہ نقل کرنا قول کا شہادت عقد کاکام دے سکتا ہے یانہیں،اور چندامیاں شخص واحد نابالغ کی شہادت معتبر ہے یانہیں اور وہ لڑکا جواسد علی خاں کا بتاتے ہیں ان کا ہے یانہیں،ہاں زمانہ قرار نطفہ ان کی حیات کا زمانہ ہے اور در صورت ثبوت نکاح کے وہ لڑکا وارث ترکہ اسد علی خان کا ہے یانہیں؟فقط بینوابسند الکتاب توجروافی یوم الحساب۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں مجیدن بدستور اپنے شوہر بدایونی کے نکاح میں ہے کہ آوارگی و بدکارگی مزیل نکاح نہیں،
|
لحدیث ابی داؤد والنسائی |
ابوداؤد اور نسائی کی حدیث میں ہے خاوند |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع