30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صرف مجہول النسب کہیں گے یعنی باپ معلوم نہیں نہ یہ کہ زنا سے ہونا معلوم ہے کہ ممکن ہے کہ اس شوہر موجود سے پہلے بیوہ نے خفیہ کسی اور سے نکاح کیا ہو یہ حمل اس سے رہاہو یا کسی شخص نے دھوکے اور شبہہ سے اس عورت کے ساتھ ہمبستری کی ہو یہ لڑکی اس جماع کی ہو،ان دونوں صورتوں میں لڑکی ولدالزنا نہ ہوگی،اور جب اس حمل کا زنا سے ہونا ثابت نہ ہوا تو عورت کا نکاح اس شوہر موجود سے فاسد ہوگیا،
|
ولایکون باطلا کما یفیدہ کلام البدائع والبحر والھندیۃ وردالمحتار کما بیناہ علی ھامشہ من باب ثبوت النسب لاسیما ھٰھنا فان الزوج لم یکن عالما بحبلھا کما ذکر السائل فلایتاتی ھٰھناکلام القنیۃ والمجتبی۔ |
اور باطل نہ ہوگا جیسا کہ بدائع،بحر،ہندیہ اور ردالمحتار کے کلام کا مفاد ہے اور جیسا کہ ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ پر ثبوت نسب کے باب میں اس کو بیان کیاہے خصوصًا یہاں کیونکہ خاوند بیوی کے حمل پر مطلع نہ ہوا جیسا کہ سائل نے ذکر کیا ہے،لہذا یہاں قنیہ اور مجتبی کا کلام منطبق نہیں ہوتا۔(ت) |
اب شوہر پر لازم ہے کہ عورت کو فورًا چھوڑدے اس صورت میں اگرزید نے عورت سے صحبت یعنی خاص فرج میں جماع کیا تھا تو مہر مثل ومہر مسمی سے جو کم ہے وہ دینا آئے گا یعنی یہ دیکھیں گے کہ مہر بندھا کتنا تھا اور اس عورت کامہر مثل کیا ہے ان دونو ں میں جو کم ہے وہ دیا جائے گا،ردالمحتار میں ہے:
|
فی الزیلعی وغیرہ لوولدت المنکوحۃ لاقل من ستۃ اشھر مذتزوجھا لم یثبت النسب لان العلوق سابق علی النکاح ویفسد النکاح لاحتمال انہ من زوج اخربنکاح صحیح او بشبہۃ[1]۔ |
زیلعی وغیرہ میں ہے کہ اگر منکوحہ نکاح کے بعد چھ ماہ سے کم مدت میں بچے کو جنم دے تو خاوند سے نسب ثابت نہ ہوگا کیونکہ نطفہ کا استقرار نکاح سے قبل ہوا،اور نکاح اس احتمال کی بنا پر فاسد قرار پائیگا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ نطفہ کسی دوسرے صحیح نکاح یاشبہہ نکاح سے ٹھہراہو۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
یجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطی فی القبل لابغیرہ کالخلوۃ ولم یزد مھر المثل علی السمی ولو |
فاسد نکاح میں مہر مثل تب واجب ہوگا جبکہ خاوند نے شرمگاہ میں وطی کی ہو،وطی کے علاوہ کسی اور طریقہ سے مثلًا خلوت سے واجب نہ ہوگا،اور یہ مہر مثل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع