30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلکہ یوں قراردیں گے حنفیہ نکاح تو اس عورت کا ہولیا تھا جس کا عورت دعوٰی کرتی ہے اور اس کے بعد علانیہ نکاح آپس میں پھر کیا جس کا بیان شوہر اور اس کے گواہ کرتے ہیں،درمختار میں ہے:
|
لوولدت فاختلفا فی المدۃ فقالت المرأۃ نکحتنی منذ نصف حول وادعی الاقل فالقول لھا وقال تحلف والو لدابنہ حملالہا علی الاصلاح [1]اھ ملخصًا۔ |
اگر معتدہ کا بچہ پیدا ہو پھر خاوند بیوی میں مدت حمل میں اختلاف ہو عورت کہے چھ ماہ مکمل ہوگئے ہیں کہ تو نے مجھ سے نکاح کیا ہے،اور خاوند چھ ماہ سے کم مدت کا دعوٰی کرے تو اس صورت میں بیوی کی بات بلاقسم معتبر ہوگی،صاحبین کے نزدیك عورت سے قسم لی جائے اور بچہ اس شخص کا قرار پائیگا تاکہ عورت کا معاملہ اصلاح پر رہے اھ ملخصًا۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
لاتسمع بینتہ ولابینۃ ورثتہ علی تاریخ نکاحھا بمایطابق قولہ لانھا شہادۃ علی النفی معنیً فلاتقبل، والنسب یحتال لاثباتہ مہماامکن والا مکان ھٰھنا بسبق التزوج بھا سرًا بمھر یسیر وجھرا باکثر سمعۃ ویقع ذٰلك کثیرا[2]۔ |
خاوند اور اس کے ورثاء کی طرف سے بیوی کے نکاح کے متعلق تاریخ پر گواہی نہ لی جائے گی کہ خاوندسچا ہے کیونکہ معنیً یہ شہادت نفی پر ہے جو مقبول نہ ہوگی،اور نسب کے اثبات کےلئے بقدرا مکان حیلہ کیا جانا چاہئے اور وہ یہاں موجود ہے ہوسکتا ہے کہ پہلے پوشیدہ طور پر قلیل مہر کے ساتھ نکاح کیا گیا ہو(جیسے بیوی کہتی ہے،اور بعد میں لوگوں کو مطلع کرنے کےلئے اعلانیہ زیادہ مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کیا ہو(جیسے کہ ورثاء اور گواہ کہتے ہیں)اور بہت دفعہ ایسا ہوتا رہتا ہے۔(ت) |
اس صورت میں اگر زید عورت کو چھوڑدے گا تمام وکمال مہر جتنا بندھا تھا لازم آئے گا اوراگر عورت مذکورہ بقسم بیان نہیں کرتی بلکہ اسی نکاح کے بعد جسے پیدائش دختر تك چھ مہینے نہ گزرے تھے حمل رہنا کہتی ہے یا پیش از نکاح مانتی ہے یا کچھ نہیں کہتی صرف یونہی دعوٰی کئے جاتی ہے کہ یہ دختر اسی شوہر سے ہے تو اس کا کہنا ہرگز مسموع نہ ہوگا اور یہ لڑکی اس شوہر سے ہرگز نہیں ٹہہرسکتی کہ بچہ چھ مہینے سے کم پیٹ میں نہیں رہ سکتا نہ شوہر اول کی ٹھہر سکتی ہے کہ حسب بیان سائل اس کی موت کو چار برس سے زیادہ گزرچکے تھے جب لڑکی پیدا ہوئی اور کوئی بچہ دوبرس سے زیادہ پیٹ میں نہیں رہتا،مگر لڑکی ولدالزنا بھی نہ کہی جائیگی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع