30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیچھے نماز درست بتاتے ہیں اور مطابق تحقیق شامی ودیگر فقہاء رحمہم اﷲ امام مالك کی روایت پر عمل کرلینا بوقتِ ضرورت جائز سمجھ کر نکاح بھی جائز قرار دیتے ہیں،پس آپ اس امر کا فیصلہ فرمائیں:
(١)کیا حافظ صاحب کا نکاح کسی صورت جائز قرار دیا جاسکتا ہے یانہیں؟
(٢)کیا حنفی کسی وقت کسی حالت میں بھی کسی دوسرے مذہب کی روایت پر عمل نہیں کرسکتا،اگر نہیں کرسکتا تو عبدالحی لکھنؤی نے عمدۃ الرعایہ میں جو لکھا ہے کہ اتفاقًا دوسرے مذہب کی روایت پر عمل کرسکتا ہے'اس کا کیا مطلب ہے،اور اگر کر سکتا ہے تو یہ نکاح کیوں ناجائز ہوگا؟بینواتوجروا
الجواب:
مذہب ائمہ حنفیہ وجمہور ائمہ کرام میں زنِ مفقود پر انتظار فرض ہے یہاں تك کہ اتنا زمانہ گزرجائے کہ عادۃً موت مفقود مظنون ہوا اور اس کی تقدیر مفتی بہ مؤید بحدیث صحیح یہ ہے کہ روز ولادت مفقود سے ستّر سال گزرجائے،امام مالك رضی اﷲ عنہ بھی دربارہ مال مفقود یہی حکم دیتے ہیں مگر دربارہ زن خلاف کرتے ہیں پھر بھی ہرگزیہ ان کا مذہب نہیں جو آج کل کے جہّال بلکہ بعض مدعیان علم نے سمجھ رکھا ہے کہ مفقود ہوئے چار برس گزرے اور عورت بطور خود نکاح کرلے بلکہ ان کا مذہب یہ ہے کہ زنِ مفقود قاضی شرع کے حضور مرافعہ کرے قاضی بعد تحقیق روز مرافعہ سے چار برس کی مہلت اپنی طرف سے دے،عورت یہ دن گزارے،اس کے بعد پھر مستغیث ہواور قاضی بعد تحقیق تفریق کرے،اسکے بعد عورت عدت بیٹھے پھر نکاح کرسکتی ہے،خودامام مالك نے اپنی کتاب مدوّنہ میں اس کی تصریح فرمائی اور صاف ارشاد فرمایا کہ مرافعہ سے پہلے اگرچہ بیس برس گزرگئے وہ اصلا شمار میں نہ آئیں گے،آج سے چار برس لئے جائیں گے،حنفی وقت تحقق ضرورت صحیحہ اس پر عمل کرسکتا ہے نہ یہ کہ اپنی ایك اختراعی بات پر کہ ہرگز امام مالك کا بھی مذہب نہیں،چلو اور مذہب امام مالك پر عمل کا نام لو،اس کی نظیر یہی ہے کہ مذہب حنفی میں زنِ عنین کے لئے حکم ہے کہ قاضی کے حضور مرافعہ کرے قاضی بعد تحقیق اپنی طرف سے ایك سال کامل کی مہلت دے،جب سال گزرجائے اور مطلب حاصل نہ ہو عورت پھر مرافعہ کرے،قاضی بعد تحقیق شوہر کو طلاق دینے کی ہدایت فرمائے،اگر وہ نہ مانے عورت سے پوچھے تو اپنے نفس کو اختیار کرتی ہے یاشوہر کو؟اگروہ فورًا اپنے نفس کو اختیار کرے قاضی ان میں تفریق کردے،عورت عدت بیٹھے اور اب جس سے چاہے نکاح کرلے،تاجیل قاضی سے پہلے اگر بیس برس گزرگئے ہیں ان کا اصلا لحاظ نہ ہوگا آج سے ایك سال کامل لیا جائےگا۔کیا اگر کسی عنین کی عورت بطور خود وقت نکاح سے سال بھر کے بعد اسے چھوڑکر چل دے اور دوسرا نکاح کرلے کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس نے مذہب حنفی پر عمل کیا،کیا اس کا یہ نکاح جائز واقع ہوا،حاشا(ایسا نہیں۔ت)ونسأل اﷲ العفووالعافیۃ ان تمام مسائل کی تحقیق ہمارے فتاوٰی اور رسالہ اللواء المعقود لبیان حکم امرأۃالمفقود میں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
___________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع