30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولدت اولاد،ثم جاء الزوج الاول مانصہ،المرأۃ ترد الی الاول اجماعا[1]ومہرے کہ در نکاح اول بستہ بودند خود بر ذمہ شوہر اول است و بریں دوم نیز مہر مثل لازم بشرطیکہ باایں زن بہم آمدہ وجماعش کردہ باشد امااگر کابینے در نکاح ثانی قراردادہ اند کم از مہر مثل ست تاآنگاہ ہموں قدر دہند وبرو نیفز ایند ورنہ مہر مثل تمام و کمال لازم آید وزیادہ براں بہیچ صورت واجب نشود گو مہر قرار دادہ ایشاں زائد ازوباشد خلاصہ آنکہ ہرچہ ازمہر مثل ومہر مسمی کم ست ہموں لازم بود،اما وجوب المھر فیما استحل من فرجھا واما ماذکرنا من التقدیر فلظھور فساد النکاح وھذاھو حکم المھر فی النکاح الفاسد فی الدرالمختار یجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطی فی القبل لابغیرہ کالخلوۃ لحرمۃ وطئھا ولم یزد علی المسمی لرضاھا بالحط ولوکان دون المسمی لزم مھر المثل لفساد التسمیۃ بفساد العقد [2]بالالتقاط۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
اس نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا اور اس سے اولاد ہوگئی پھر پہلا خاوند واپس آگیا،کے تحت نقل کیا،جس کی عبارت یہ ہے کہ عورت پہلے خاوند کو بالاجماع واپس کی جائیگی،اور مہر پہلے خاوندنے جومقرر کیا وہ پہلے خاوند کے ذمہ ہے اور دوسرے خاوند پر بھی مہر مثلا ادا کرنا واجب ہے بشرطیکہ دوسرے نے اس عورت سے جماع کرلیا ہو،لیکن اگر نکاح ثانی میں مہر مثل سے کم مقرر ہوتو وہی واجب الادا ہوگا اس پر زائد واجب نہ ہوگا ورنہ مقررہ نہ ہونے یا مہر مثل سے زائد مقرر ہونے کی صورت صرف مہر مثل اور مقررہ سے جو بھی کم ہوگا وہی واجب الادا ہوگا،مہر اس لئے دینا ہوگا کہ اس کے بدلے شرمگاہ کو حلال کیا اور بیان کردہ مقدار اس لئے کہ اس ثانی نکاح کا فساد واضح ہوگیا اور نکاح فاسد میں بھی مہر کا حکم اسی طرح ہے،درمختار میں ہے کہ وطی کرنے پر نکاح فاسد میں مہر مثل واجب ہوتا ہے شرمگاہ میں وطی کے بغیر مہر واجب نہیں ہوتا اگرچہ خلوت کرچکاہو،اور مہر مثل اور اگر وہ مہر مقررہ سے کم ہوتو مہر مثل واجب ہوگا کیونکہ مہر مقررہ کا فساد نکاح کے فساد پر ہوگیا(ملتقطا)واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت) |
مسئلہ١٠٨: از بنگال کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا شوہر عرصہ چار سال سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع