30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
|
درصورتِ اولٰی براد ر عبداﷲ فرمان آں چنان ست کہ زن را طلاق دہد قال اﷲ تعالٰی: فَاِمْسَاکٌۢ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ تَسْرِیۡحٌۢ بِاِحْسٰنٍؕ [1]مرد چوں از داشتن بخوبی عاجز آمد گزاشتن بہ نیکی واجب گشت و در اداے ایں واجب اگر طلاق بافعل ندہد تفویض طلاق نیز کافی ست زیرا کہ مقصود آنست کہ زن از مضرت فَتَذَرُوۡہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ ؕ[2]محفوظ ماند وایں بہ سپردن طلاق بدست زن نیز حاصل ست یعنی زن را بنویسد کہ طلاق تو بدست تو نہادم ہر گاہ کہ خواہی خود را طلاق دہی واز قید نکاح من بدر آئی،نفعش آنست کہ زن مصلحت خود دیدہ کار خواہد بو فاداری شوہر صبر پیش گرفتن خواہ بنا چاری خواہش چارہ دگر جستن اماتا از شوئے افتراق نشود نکاح با دیگر حرام بود قال اﷲ تعالی وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ [3]ودرصورت ثانیہ زن بلاشبہہ بزوج پیشین دادہ شود،فی رد المحتار عن شرح المجمع لابن ملك تحت قول الدر،غاب من امرأتہ فتزوجت باٰخرو
|
پہلی صورت میں عبداﷲ کے بھائی کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔اﷲ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ بیوی کو بھلائی سے پاس رکھو یا نیکی کے ساتھ آزاد کردو،خاوند بخوبی پاس رکھنے سے عاجز ہے تو نیکی کے ساتھ چھوڑدینا اس پر واجب ہے،اس واجب کی ادائیگی میں اگر بالفعل طلاق نہیں دیتا تو بیوی کو طلاق کا اختیار سونپ دے تو بھی کافی ہے کیونکہ مقصد یہ ہے کہ عورت کو معلق کرکے رکھنے کے ضرر سے بچایا جائے تو یہ مقصد عورت کو اختیار تفویض کرنے سے حاصل ہوجاتا ہے یعنی بیوی کو لکھ دے کہ تیری طلاق تیرے ہاتھ دیتا ہوں تو جب چاہے طلاق اختیار کرلے اور میری قید سے آزاد ہوجا،اس کا فائدہ یہ ہے کہ بیوی اپنی مصلحت کے مطابق فیصلہ کریگی خواہ خاوند کی وفاداری میں صبر کرے خواہ مجبوری خواہشات کی بنا پر کوئی دوسرا راستہ اپنالے،تاہم جب تك خاوند سے مفارقت نہ ہوجائے کسی اور سے نکاح حرام ہے،اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ نکاح والی عورتیں بلاشبہہ پہلے خاوند کی بیوی ہے اسی کو دی جائے۔ردالمحتار میں شرح المجمع ابن ملك سے درمختار کے قول،ایك شخص بیوی کو چھوڑ کر غائب ہوگیا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع