30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سن رسیدہ عورتیں جن کے شوہر مرتے یا مفقود ہوجاتے ہیں انہیں تلاشِ نفقہ کے لئے فکر نکاح نہیں ہوتی وہ کیونکر بسر کرتی ہیں اور یہ حالت بیوگی تو ہند کی نوجوانیں بھی اسی حال میں شریك ہیں،وہاں خداجانے شان رزاقی خاوند میں کیوں نہیں منحصر ہوجاتی ہے،لطف یہ ہے کہ یہاں تقلید امام مالك رحمۃاﷲ تعالٰی علیہ کا دامن پکڑا جاتا ہے،جاہل لوگ ان کا مذہب یہ سمجھتے ہیں کہ مرد کو گمے چار برس گزرے اور عورت کویونہی عدت بیٹھ کر نکاح حلال ہوگیا،حاشایہ ان کا مذہب نہیں بلکہ وہ یہ فرماتے ہیں کہ عورت قاضیِ شرع کے حضور دعوٰ ی پیش کرے،قاضی بعد ثبوتِ مفقود ی کہ اس کی خبر ملنے سے بالکل ناامید ہوگئی ہو اب چار برس کی مدت اپنے حکم سے مقرر کرے،اس مدت میں بھی پتا نہ چلے تو پھر قاضی تفریق کردے،اس کے بعد عورت چار مہینے دس دن عدت بیٹھے اور شوہروں کے لئے حلال ہوجائے،حضور قاضی میں رجوع لانے سے پہلے اگر بیس برس گزرگئے ہیں تو ا سکا اصلًا اعتبار نہیں۔علامہ زرقانی مالکی شرح مؤطائے امام مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں فرماتے ہیں:
|
قول مالك لو اقامت عشرین سنۃ ثم رفعت یستأنف لھا الاجل[1]۔ |
امام مالك کا قول ہے کہ اگر عورت بیس سال بھی گزارچکے اور بعد میں قاضی کے ہاں معاملہ پیش کرے تو بھی قاضی اس کے لئے نئی مہلت مقرر کرے گا۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
قول مالك ایضا تستأنف الاربع من بعد الیأس وانھا من یوم الرفع [2]۔ |
امام مالك کا یہ بھی قول ہے کہ نا امیدی کے بعد چار سال کی نئی مہلت مقرر کی جائے گی اور اس مہلت کی ابتداء قاضی کے ہاں معاملہ پیش ہونے کے بعد ہوگی(ت) |
اب کہئے قولِ امام مالك ہی پر عمل کیجئے تواول تو یہاں قاضی مالکی کہاں! اور قاضی حنفی اپنے خلافِ مذہب کیوں حکم دینے لگا! اور دے بھی تو اس کے نفاذ میں دقتیں ہیں،اور نافذ ہوبھی جائے تو ابھی ساڑھے چار برس پڑے ہیں یہ کیونکر کٹیں گے !ایسی بے صبری وادعائے بے رزقی کا علاج تو یوں بھی نہ بنا۔غرض خلاصہ مقصد یہ ہے کہ اﷲ سے ڈرے،اﷲ سے ڈرے۔اور امر فروج کو سہل نہ جانے۔نہ فقدانِ شوہر کو مرگِ شوہر کے پلے میں رکھے اور اتباعِ حکم کو اتباعِ رسم سے اہم ترسمجھے اور تصور کرے کہ ہند کی نوجوانیں بیوہ ہوکر کیونکربسر کرتی ہیں بلکہ یہ بھی درکنار اس دارالفتن ہند پرمحن میں بہت شریف زادیاں ایسی نکلیں گی جن کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع