30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ملے گا مگر خاوند مفقود ہوکریہ سب دعوی ہجوم کرتے ہیں،اگر ضرورت کا دعوی سچا ہے تو وہاں صبر کیونکر ہوتا ہے اور جب وہاں کیاجاتا ہے،حالانکہ قطعًا بے شوہر،اور ازواج کے لئے حلال ہیں تو یہاں صبر کیوں نہیں کیا جاتا کہ یقینا شوہر دار تھیں اور موتِ شوہر ثابت نہیں ہوئی مگر ہے یہ کہ جہال کے نزدیك رسم کا اتباع حکم کے اتباع سے زیادہ اہم ہے،یہاں حیلے تلاش کئے جاتے ہیں کہ کسی مذہب میں کوئی راستہ نکلے اگر چہ اپنے مذہب میں نراحرام ہو،وہاں رسم نہیں چھوڑی جاتی اگرچہ چاروں مذہب میں کھلی حلت ہے،اﷲ عزوجل مسلمانوں کو ہدایت فرمائے،بات یہ ہے کہ نفس کی باگ جب نرم کرلیجئے دبالیتا ہے۔اس وقت ضرورت،حاجت،معذوری،مجبوری،سوجھتی ہے اور باگ جب کرّی کرلیجئے دب جاتا ہے۔اس وقت ظاہر ہوتاہے کہ وہ جوش نرادعوٰ ی ہی دعوٰ ی تھا۔حدیث میں حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من استغنٰی باﷲ اغناہ اﷲ ومن استعف اعفّہ اﷲ[1]۔ رواہ الامام احمد والنسائی والضیاء عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
جو اﷲ عزوجل کے بھروسا پر خلق سے بے پروائی کریگا اﷲ تعالٰی اسے غنی کردے گا،اور جو سچے دل سے پارسا بننا چاہے گا اﷲ تعالٰی اسے پارسا بنا دے گا۔(اسے امام احمد،نسائی اور ضیاء نے ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت) |
جنہیں نکاح پر قدرت نہ ہو ان کاعلاج صحیح حدیث میں روزے رکھنا ہواہے:
|
من لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء[2]۔رواہ احمد والستۃ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم،وسوق الحدیث وان کان فی الرجال،فالنساء شقائقھم[3]۔بعضکم من بعض۔ |
جو نکاح پر قدرت نہ رکھے اس کو روزہ لازم ہے کیونکہ یہ اس کےلئے شہوت سے رکاوٹ ہے۔اس کو امام احمد اور ائمہ ستّہ نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے،اور حدیث کے یہ ا لفاظ اگرچہ مردوں کے بارے میں ہیں،تو عورتیں وہ مردوں کی طرح ہیں اور تم آپس میں ایك دوسرے کی طرح ہو۔(ت) |
بلکہ احتیاج نفقہ کے عذر کو غور کیجئے تو وہ بھی اسی عذر جوانی کے ساتھ ہے جس کا علاج حدیث میں ارشاد ہوگیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع