30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نقلہ المحقق فی الفتح[1]۔ |
نے ذکر فرمایا،یہ فتح القدیر میں محقق سے منقول ہے(ت) |
تو وہ دلیل کہ مالکیہ کو اس قول پر حامل تھی یعنی تقلید فاروقی وہ بھی نہ رہی۔اسی طرح حضرت امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہ ارشد تلامذہ امام مالك ہیں پہلے قولِ امام مالك کے قائل تھے پھر ہمارے ہی قول کے طرف رجوع لائے،اور وہی ان کے مذہب میں راجح قرار پایا،
|
کما فی میزان الشریعۃ الکبری،ورحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ،وھذا لفظھما اختلفوا فی زوجۃ المفقود فقال ابوحنیفۃ والشافعی فی الجدید الراجح و احمد فی احد روایتیہ لاتحل للازواج حتی تمضی مدۃ لا یعیش فی مثلھا غالبًا[2]۔ |
جیسا کہ میزان الشریعۃ الکبری اور رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ میں ہے،یہ الفاظ دونوں سے متفق ہیں کہ مفقود کی بیوی کے متعلق فقہاء نے اختلاف کیا ہے،امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کے جدید راجح قو ل اور امام احمد کے ایك قول کے مطابق اس کو دوسرا نکاح حلال نہیں حتی کہ گم شدہ اتنی عمر میں غالب طور پر زندہ نہ رہ سکے۔(ت) |
بلکہ جمہور ائمہ شافعیہ رحمہم ا ﷲ تعالٰی تو یہاں تك اس سے اختلاف رکھتے ہیں کہ اگر قاضی مہلت چار سالہ بعد تفریق کردے تو اس کی قضا توڑدی جائے کہ اس دلیل صریح کے خلاف حکم کیا،امام نورالدین یوسف بن ابراہیم اردبیلی شافعی کتاب الانوار لعمل الابرار میں فرماتے ہیں:
|
لوحکم حاکم بانھا تتربص اربع سنین فتعتدعدۃ الوفاۃ ثم تنکح وتربصت وحکم ثانیا بالفرقۃ واعتدت ونکحت نقض حکمہ الا اذابان انہ کان میتا وقت الحکم۔[3] |
اگر کسی حاکم نے یہ فیصلہ دیاکہ وہ چار سال انتظار کے بعد وفات کی عدت پوری کرے اور پھر کسی سے نکاح کرے، چنانچہ فیصلہ کے مطابق اگر عورت نے چار سال انتظار کیا اور اس حاکم نے فرقت کا نیا حکم دے دیا اور اس کے بعد عورت نے عدت گزار کر نکاح کرلیا تو قاضی کا یہ حکم کالعدم قرار پائے گا الایہ کہ واضح ہوجائے کہ قاضی کے مذکور فیصلے کے وقت گمشدہ شخص فوت ہوچکا تھا۔(ت) |
اسی میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع