30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سب صورتیں معدوم ہوں تو البتہ بحالت ضرر صریح ومجبوری محض اجازت ہے۔درمختار میں ہے:
|
تعتدان ای معتدۃ طلاق وموت فی بیت وجبت فیہ ولاتخرجان منہ الاان تخرج او ینھدم المنزل او تخاف انھدامہ او تلف مالھا اولا تجد کراء البیت ونحو ذٰلك من الضرورات فتخرج لاقرب موضع الیہ وفی الطلاق الٰی حیث شاء الزوج[1]۔ |
موت او ر طلاق کی عدت والی عورتیں اسی مکان میں عدت گزاریں جس میں عدت واجب ہوئی ہو،اور وہاں سے منتقل نہ ہوں الایہ کہ ان کو جبرًا نکالا جائے یا وہ مکان گرجائے یاگرنے کا خطرہ ہو یا مال کے نقصان کا خطرہ ہو یا مکان کرایہ پر ہو اور عورت کرایہ نہ پائے،اور دیگر ایسی ضروریا ت کی وجہ سے مجبور ہوتو قریب ترین مکان میں منتقل ہوجائے،اور طلاق والی کو یہ حکم،ہے کہ جہاں خاوند انتظام کرے وہاں رہے۔(ت) |
عالمگیریہ میں ہے:
|
المعتدۃ اذاکانت فی منزل لیس معھا احد وھی لا تخاف من اللصوص ولامن الجیران ولکنھا تفزع من امر المبیت ان لم یکن الخوف شدیدالیس لھا ان تنتقل من ذٰلك الموضع،وان کان الخوف شدیدا کان لھا ان تنتقل کذافی فتاوی قاضی خاں[2]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
عدت والی عورت جب کسی ایسے مکان میں ہو کہ وہاں اس کے ساتھ کوئی نہ رہتا ہو اور چوروں یا پڑوسیوں سے خائف نہ ہو لیکن وہ عورت رات کو ڈرتی ہو،اگر یہ ڈر شدید نہ ہو تو عورت کو وہاں سے منتقل ہو نا جائز نہیں،اور اگر یہ ڈر شدید ہو تو عورت کو پھر منتقل ہو نا جائزہے۔فتاوی قاضی خاں میں ایسے ہی مذکور ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔ |
________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع