30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب
سائل نے ظاہر کیا کہ عورت مسکینہ ہے پانچ روپے کی ایك معاش کہ اس کے شوہر نے اسے
لکھ دی تھی صرف وہی پاس رکھتی ہے اور اہلکار کچہری کوکمیشن دے کر بلانے کی استطاعت
اصلًا نہیں اور اگر نہ جائے تو وہ جائداد اس کے نام نہ ہوگی اور وہ جگہ جہاں جانا
چاہتی ہے اس کے مکان عدت سے صرف چھ میل دور ہے دن ہی دن میں جانا اور مکان میں
واپس آ نا ہو جائے گا رات یہیں آ کر
بسر کرے گی اگر بات یوں ہے تو صورت مذکور ہ میں اسے جانا اور دن کے دن واپس آکر رات مکان عدت ہی میں بسر کرنے کی اجازت
ہے۔درمختار میں ہے:
|
معتدۃ موت تخرج فی الحدیدین وتبیت اکثر اللیل فی منزلھا لان نفقتھا علیھا فتحتاج للخروج، حتی لوکان عندھا کفایتھا صارت کالمطلقۃ ولایحل لھا الخروج فتح،وجوزفی القنیۃ خروجھا لاصلاح لا بدلھا منہ کزراعۃ ولاوکیل لھا[1]۔ |
موت کی عدت والی عورت ضرورت پر دن میں اور رات میں گھر سے نکلے اور رات کا اکثر حصہ واپس اپنے مکان ہی میں بسر کرے کیونکہ اس کا اپنا خرچہ خود اس کے ذمہ ہے اس لئے وہ محتاج ہے کہ باہر نکلے حتی کہ اگر اس کے پاس کفایت کے مطابق خرچہ موجود ہے تو پھر یہ مطلقہ عورت کی طرح ہے اس کو باہر جانا جائز نہیں ہے،فتح۔اور قنیہ میں اسے اپنی ضروری اشیاء کی اصلاح کے لئے نکلنا جائز قرار دیا ہے،مثلًا زراعت کی نگرانی کرنی ہے اور اس کا کوئی وکیل نہ ہو۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قال فی النھر ولابدان یقید ذٰلك بان تبیت زوجھا [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
نہر میں کہاہے یہ قید ضروری ہے کہ رات کو خاوند والے گھر میں واپس آئے اور وہاں رات گزارے۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ٩٨: از شہر روہیلی ٹولہ بریلی مسئولہ مسیت خاں ١٩رجب المرجب ١٣٣٦ھ
زیدفوت ہوااس کی زوجہ کوئی ذریعہ معاش نہیں رکھتی اور نہ کوئی شخص ورثاء و متعلقین متوفی سے اس کے نان ونفقہ کا متکفل ہو بلکہ اشخاص مذکور کی جانب سے چور شارب الخمر تارك الصلوٰۃ قمار باز ہیں ونیز دیگر امو ر خلافِ شریعت کے مرتکب رہتے ہیں نسبت مسماۃ مذکور کے انعدام عصمت واتلاف مال و دیگر قسم کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع