30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
معتدۃ موت تخرج فی الحدیدین و تبیت اکثر اللیل فی منزلھا لان نفقتھا علیھا فتحتاج للخروج، حتی لوکان عندھا کفایتھا صارت کالمطلقۃ فلایحللھا الخروج فتح [1]اھ اقول فکذااذا قدرت علی الکسب فی البیت من دون خروج فان المبیح ھی بالضرورۃ فبحیث لاضرورۃ فلااباحۃ وھذا واضح جدا۔ |
موت کی عدت والی عورت ضرورت پر دن میں اور رات میں گھر سے باہر نکل سکتی ہے،او ر رات کا اکثر حصہ اپنے گھر میں ہی رہے کیونکہ اس نے اپنا خرچہ خود پورا کرنا ہے اس لئے وہ باہر نکلنے کی محتاج ہے حتی کہ اگر اپنی کفایت اور ضرورت کےلئے اس کے پاس نفقہ ہوتو یہ مطلقہ عورت کی طرح ہے اس کو باہر نکلنا حلال نہیں ہے،فتح اھ اقول:(میں کہتا ہوں) یونہی اگر وہ گھر میں رہ کر کوئی محنت کرکے اپنا خرچہ بناسکتی ہے تو نکلناحلال نہ ہوگا کیونکہ اس کا باہر نکلنا ضرورت کی بناء پر جائزہوا ہے اور جب ضرورت نہیں تو جواز بھی نہیں،اور یہ بات بالکل واضح ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
وتعتدان ای معتدۃ طلاق وموت فی بیت وجبت فیہ ولاتخرجان منہ الاان تخرج او ینھدم المنزل او تخاف انھدامہ او تلف مالھا او لاتجد کراء البیت ونحو ذٰلك من الضرورات فتخرج لاقرب موضع الیہ وفی الطلاق الی حیث شاء الزوج[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
موت اور طلاق کی عدت والی عورتیں اسی گھر میں عدت گزاریں جس میں عدت واجب ہوئی اور وہاں سے باہر نہ نکلیں الایہ کہ ان کو جبرًا نکالا جائے یا وہ مکان گر جائے یا گرنے کا خطرہ ہو،یا وہاں مال کے نقصان کا خطرہ ہو یا مکا ن کرایہ پر تھاعورت میں کرایہ دینے کی طاقت نہ ہو یا اور اس قسم کی ضروریات ہوں تو قریب ترین مکان میں منتقل ہوجائے،اور طلاق والی کو یہ حکم ہے کہ جہاں خاوند اسے سکونت دے وہاں رہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ٩٧: از بریلی محلہ شاہ آباد متصل چاہ کنکر مسئولہ سید منصور علی صاحب ١٥شوال ١٣٢٦ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت جس کا خاوند مرگیا وہ ایام عدت میں اپنے کسی استحقاق وراثت کے استحکام کے واسطے باہر گھر سے جاسکتی ہے یانہیں،اور اگر باہر جائے تو کس قدر عرصہ تك اور اس کے باہر جائے سے اس کے کسی حقوق میں فرق تو نہ آئے گا بینواتوجروا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع