30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عدتھا وضع الحمل ولم یفصل،والذی ذکرہ محمد ان ھذا فی عدۃ الطلاق امافی عدۃ الوفاۃ فلاتتغیر بالحمل وھو الصحیح [1]اھ اقول: ووجہہ ظاہر ان عدۃ الوفاۃ بالاشھر والطلاق بالحیض والحیض یرتفع بالحبل فافھم،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مطابق اس کی عدت بچے کی پیدائش تك ہے،امام کرخی نے اس کی تفصیل نہ فرمائی،اور امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے خود جو ذکر فرمایا اس کے مطابق یہ حکم طلاق کی عدت کا ہے لیکن اگروفات کی عدت ہو تو پھر حمل کی وجہ سے اس کی عدت چار ماہ دس دن ہی رہے گی اور وفات والی عدت میں تبدیل نہ ہوگی،یہی صحیح مذہب ہے،اھ اقول:(میں کہتا ہوں)اس کی وجہ ظاہر کہ وفات کی عدت مہینوں کے حساب سے ہوتی ہے اور طلاق کی عدت حیض کے حساب سے ہوتی ہے اور حیض حمل کی وجہ سے ختم ہوجاتا ہے،غور کرو۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
___________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع