30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو جس روز سے طلاق دی اس دن سے مطلقہ ہوئی اور پیش از انقضائے عدت نکاح قطعًا ناجائز حرام ہوا ان پر جدا ہوجانا فرض ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ٩٤: مرسلہ رفیع الدین صاحب مختار ٢٥شوال ١٣١٥ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چاند بی بی کا نکاح بعمر گیارہ برس پیر خاں کے ساتھ ہوا،چاند بی بی بعدنکاح حسب دستور اپنے شوہر کے گھر آئی،ایك دو روز رہ کر ماں باپ کے گھر واپس گئی،بعد نکاح کے تین برس بعد بیوہ ہوگئی،مسماۃ مذکور کا نکاح ثانی عطاخاں کے ساتھ جس کی عمر چھ برس کی تھی بعد فاتحہ چالیسویں کے کردیا،انتظار گزرنے عدت کا نہ کیا گیا،وقت نکاح ثانی چاند بی بی تخمینًا ١٣،١٤برس کی ہوگی،اب یہ بات دریافت طلب ہے کہ بلاانتظار گزرنے عدت کے یہ نکاح ثانی جائز ہوا یانہیں؟اور بیوہ کے بھائی اور ماں زندہ ہیں تو کس کی اجازت درکار ہے؟
الجواب:
جو عورت آزاد کسی عقد صحیح سے کسی مسلمان کے نکاح میں ہواور موتِ شوہر تك وہ نکاح اپنی صحت پر باقی رہے،کوئی فساد اس میں عارض نہ ہواور موتِ شوہر کے وقت عورت کو کسی طرح کا حمل ہونا ثابت نہ ہو تو عورت پر ہر حال میں خواہ مسلمہ ہویا کتابیہ بالغہ ہو یا صغیرہ شوہر بالغ تھا یاصبی خلوت ورخصت ہوئی یا نہیں بہر صورت چار مہینے دس دن کا انتظار لازم ہوتا ہے،اس مدت کے گزرنے سے پہلے اس کا نکاح حرام و ناجائز ہے،
|
فی الدرالمختار العدۃ(للموت اربعۃ اشھرو عشرا) بشرط بقاء النکاح صحیحا الی الموت(ملتقطا)وطئت اولا، ولو صغیرۃ او کتابیۃ تحت مسلم ولو عبدافلم یخرج عنھا الاالحامل (ولو)کان (زوجھا) المیت (صغیرا)غیر مراھق [1]اھ ملتقطا۔ |
درمختار میں ہے موت کی وجہ سے عدت چار ماہ دس دن ہے بشرطیکہ موت تك نکاح صحیح رہاہو مطلقا،یعنی وطی کی گئی ہو یانہ کی گئی ہو،اگر چہ عورت نابالغہ ہو یا کوئی کتابیہ عورت مسلمان کے نکاح میں ہو اگرچہ وہ مسلمان غلام ہی ہو سب کا حکم یہی ہے،اگرچہ خاوند اس قدر چھوٹا ہو جو ببلوغ کے قریب نہ ہو فوت ہواہو اھ ملتقطا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع