30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالغامابلغ [1]انتہی ملخصا وفیہ ایضا یستحق الارث برحم ونکاح صحیح فلاتوارث بفاسد ولا باطل اجماعا٢[2] انتہی ملتقطا، |
مقرر نہ کیا گیا ہویا مقدار معلوم نہ ہوسکے تو پھر مہر مثل جتنا بھی ہو وہی لازم ہوگا اھ ملخصا اور اسی میں ہے کہ وراثت کا استحقاق رشتہ اور صحیح نکاح کی وجہ سے ہوتا ہے لہذا محض نکاحِ فاسد یا باطل کی بناء پر استحقاق وراثت بالاجماع نہ ہوگا اھ ملخصًا(ت) |
اور جو بعد گزرنے دو مہینے یعنی ساٹھ دن کے ہوا اور ہندہ دعوی کرے کہ تین حیض کامل اس وقت تك گزر چکے اور عدت منقضی ہوگئی تھی تو قول ہندہ بقسم معتبر ہوگا،اگر ورثاء زوج ثانی اس کا خلاف گواہوں سے ثابت کردینگے تو حکم اس صورت کا بھی مثل صورت اولی کے ہے ورنہ جب ہندہ مضی عدت بحلف بیان کردے گی تو میراث ومہر دونوں پائے گی،
|
فی الدرالمختارقالت مضت عدتی والمدۃ تحتملہ وکذبھا الزوج قبل قولھا مع حلفھا والاتحتملہ المدۃ لا،لان الامین انما یصدق فیما لایخالفہ الظاھر،ثم لو بالشہور فالمقدار المذکور،ولو بالحیض فاقلھا للحرۃ ستون یوما[3]،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
درمختار میں ہے:بیوی نے کہا میری عدت ختم ہوچکی ہے اور خاوند اس کو جھوٹا قرار دیتا ہے تو اگر مدت اتنی ہو جو عدت گزرنے کی گنجائش رکھتی ہے تو حلف لے کر عورت کی تصدیق کردی جائے گی،اگر وہ مدت ایسی نہیں تو پھر عورت کی تصدیق نہ کی جائیگی،کیونکہ کسی امین کی تصدیق ایسی صورت میں کی جاتی ہے جب ظاہر شواہد اس کے مخالف نہ ہوں پھر اگر عدت مہینوں کے حساب سے ہوتو تین ماہ عدت کے ہیں اور عدت حیض کے حساب سے ہوتو کم از کم آزاد عورت کےلئے ساٹھ دن عدت ہے(جس پر عورت کی تصدیق کی جائے گی) واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ٩٢: از شہر کہنہ مسئولہ ننھے ٢٥محرم الحرام ١٣١٨ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کو طلاق دی بعد طلاق تین یا چار یوم اس کا نکاح اور جگہ ہوگیا اور ایك یاڈیڑھ سال تك وہاں رہی بعد کو خاوند نے اس کو نکال دیا اس عورت نے تیسری جگہ نکاح کیا،اب یہ دریافت کرنا ہے کہ اس عورت کا دوسرا نکاح جو بعد طلاق بعد چھ یا چار یوم ہوا آیا جائز تھا یا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع