30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ٩٠: ٧ شعبان١٣١٢ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ کو طلاق دی اور عمرو نے اس کے دوسرے دن یا اسی دن ہندہ سے نکاح کرلیا،یہ نکاح جائز ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب:
بیان سائل سے ظاہر ہوا کہ شوہر اول اس عورت سے خلوت کرچکا تھا کئی سال کے بعد طلاق دی اور عورت کو حمل نہ تھا پس یہ نکاح کہ قبل گزرنے عدت کے دوسرے شخص سے ہوااصلًا صحیح نہیں،ا ن دونوں پر فرض ہے کہ فورًا جد ا ہوجائیں۔
|
قال اﷲ تعالٰی وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍؕ [1] واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:مطلقہ عورتیں تین حیض مکمل ہونے تك اپنے آپ کو روکے رکھیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ٩١:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ مثلًا زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو طلاق دی،اس نے بعد منقضی ہونے ایك ماہ یا دوماہ کے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا،یہ نکاح بدون انقضائے عدت کے شخص اجنبی سے ہوا شرعًا جائز ہے یانہیں؟اور ہندہ کو اس شخص سے دعوی مہر اور وراثت جائز ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔(بیان کرو اور اجر پاؤ۔)
الجواب:
سائل مظہر کہ ہندہ معتدات بالحیض سے ہے پس صورتِ مستفسرہ میں اگر وہ نکاح ایك مہینہ بعد ہو اتھا بیشك فاسد کہ اس قدر مدت میں مضی عدت معقول نہیں،ہندہ ترکہ کی مستحق نہیں،اور مہر مسمی و مہر مثل سے جو کم ہوگا اس قدر پائے گی،اور اگر مہر مسمی کچھ نہ تھا مجہول ہوگیا تو پورا مہر مثل لازم آئے گا،
|
فی الدرالمختار ویجب مہر المثل فی نکاح فاسد بالوطی لابغیرہ ولم یزد علی المسمی لرضاھا بالحط، ولو کان دون المسمی لزم مھر المثل لفساد التسمیۃ بفساد العقد،ولولم یسم او جھل لزم |
درمختار میں ہے اور نکاح فاسد میں صرف وطی کی وجہ سے مہر مثل واجب ہوتا ہے وطی کے بغیر نہیں،پھر وہ مہر مثل مقررہ سے زائد نہ ہوگا کیونکہ عورت مقررہ کم مہر پر راضی تھی،اور اگر مہر مثل مقرر مہر سے کم ہوتو ایسی صورت میں مہر مثل ہی واجب ہوگا کیونکہ نکاح کے فساد کی وجہ سے مقررہ مہر فاسد ہوجاتا ہے،اور اگر مہر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع