30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگر عدت تو منکوحہ پر ہوتی ہے ہندہ و زید میں باہم نکاح ہی اصلًا نہ تھا کہ جب زید مثل عام روافض زمانہ ان عقائد کفر کا معتقد تھا تو قطعًا کافر مرتد تھا، عالمگیریہ میں ہے:
|
یجب اکفارالروافض فی قولھم(وعد بعض عقائد ھم المکفرۃ وقال)وھٰؤلاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام واحکامھم احکام المرتدین کذا فی الظھیریۃ ۔[1] |
رافضیوں کو کافر قرار دینا ضروری ہے ان کے عقائد کی بابت(یہاں روافض کے بعد عقائد کفر یہ ذکر کرکے ہندیہ میں فرمایا کہ)یہ قوم ملت اسلامیہ سے خارج ہے،اور ان کے احکام مرتدین جیسے ہوں گے جیسا کہ ظہیریہ میں ہے۔(ت) |
اور مرتد مرد خواہ عورت کا نکاح کسی ملت ومذہب والے سے ہوہی نہیں سکتا نہ مومنین سے نہ کفار سے نہ خود اسی کے ہم مذہبوں سے۔ہندیہ میں ہے:
|
لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذٰلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احدکذافی المبسوط۔[2] |
مرتد کو جائز نہیں کہ وہ مرتدہ،مسلمان یا کافرہ اصلیہ سے نکاح کرے،اور یونہی مرتدہ کا نکاح کسی سے بھی جائز نہیں،جیسا کہ مبسوط میں ہے(ت) |
تو ہندہ اگرچہ زید کی حیات ہی
میں بلاطلاق اسی وقت اپنا عقد بکر سے کرلیتی جب بھی جائز وصحیح تھا۔(جواب ناقص
ملا)۔
مسئلہ٨١: ازمارہرہ ضلع ایٹہ مرسلہ محبوب علی صاحب ١٠/شوال
المکرم ١٣٢٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نے اپنے شوہر زید کی حیات میں جس کی طلاق ثابت نہیں عمرو نامی سے بطور عاشقی کے دوسرے شہر میں جاکر عقد نکاح کیا،اس کے تھوڑے ہی دن بعد شوہر سابق مرگیا،بعد مرنے کے چار برس تك عورت عمرو کے قبضہ میں رہی بطور زوجہ۔ایك روز باہم نااتفاقی اور لڑائی کے عمرو نے عورت کو طلاق بائن دی اور کئی روز تك کہا کہ میں نے طلاق دی اور ایك جلسہ میں دس پانچ دفعہ کہا کہ میں نے تجھ کو طلاق دی،اور پندرہ روز تك علیحدہ رہا۔اب بباعث عشق باہمی کے عورت اور عمرو چاہتا ہے کہ پھرتجدید نکاح کی ہونی چاہئے،اور عذر کرتا ہے کہ جب بغیر طلاق شوہر سابق کے نکاح ہی نہیں ہوا تو طلاق کیا چیز ہے اور عمرو مسجد میں مؤذن ہے اہل اسلام اس کو تجدید نکاح سے روك
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع