30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کوئی صورت ممکن نہ ہو اور واقعی سچا اندیشہ جان کا ہے جس کا تدارك اس کے قابو میں نہیں تونہ جانے کے لئے عذر صحیح ہے،اور اﷲ تعالٰی صحیح وغلط سب کو خوب جانتا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۶: از ملك موضع مہمانیہ سیری رامپور ضلع باریسال مرسلہ عبدالحمید صاحب ٢٤رمضان المبارک١٣٢٥ھ
|
سوال اینکہ زینب نابالغہ راکہ سنش بہ نہ سال نہ رسیدہ است وتخمینًا مدت نکاحش بدوسال رسیدہ زوجش طلاق دادہ خواہر زینب رازوج زینب بعد یکروز یا دو روز نکاح کرد حالانکہ زوج زینب می گوید کہ زینب را قبل دخول طلاق دادہ پس اکنوں نکاح کردن زوج زینب خواہر زینب را پیش از گزشتن عدت طلاق زینب موجب شرع شریف درست باشد یا چہ؟اگر نکاح مذکور زوج زینب را روا باشد پس عباراتِ درمختار وردالمحتار ودیگر کتب کہ عدت مطلقہ صغیرہ کہ سنش بہ نہ سال نہ رسیدہ است سہ ماہ است بلاقید دخول وبعد دخول آمدہ است مطالب آنہا چہ؟بینواتوجروا۔ |
سوال یہ ہے کہ زینب نامی لڑکی جس کی عمر ابھی نو سال نہیں ہوئی اس کا نکاح اندازًا دو سال قبل ایك شخص سے ہوا تو اس کے خاوند نے اسے طلاق دے کر ایك دو دن بعد اس کی بہن سے نکاح کرلیا جبکہ زینب کی عدت گزرنے سے قبل اس کی بہن سے نکاح بموجبِ شرع شریف درست ہوا یانہیں،اگر نکاح مذکور درست ہوا ہے تو پھر درمختار وردالمحتار اور دیگر کتب کی یہ عبارت کہ نابالغہ لڑکی جس کی عمر نو سال سے کم ہو اس کی عدت تین ماہ ہے جس میں دخول کے بعد یا قبل کی کوئی قید مذکور نہیں ہے،ا س کا مطلب کیا ہے؟بیان کیجئے اور اجر حاصل کیجئے۔ |
الجواب:
|
اگرمیان زن شو خلوت واقع شدہ بود اگرچہ خلوت فاسدہ باشد بعد ازاں شوہر بالغ آں دختر ہفت یا ہشت سالہ را طلاق داد عدت سہ ماہ واجب است ونکاح باخواہرش قبل انقضائے عدت ناجائز و حرام،اگر خلوت ہم نشدہ بود البتہ از عدت اثرے نیست واز بعد طلاقش خواہرش را بزنی تواں گرفت قال اﷲ تعالٰی فَمَا لَکُمْ عَلَیۡہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوۡنَہَا ۚ [1]د رکتب مذکورہ |
اگر زینب اور اس کے خاوند میں خلوت صحیحہ یا فاسدہ ہوچکی ہو تو اس کے بعد طلاق دی ہو اگرچہ زینب کی عمر سات یاآٹھ سال ہوتو عدت واجب ہے اور اس کی عدت گزرنے سے قبل اس کی بہن سے نکاح ناجائز ہے۔اور اگر خلوت نہ ہوئی ہوتو پھر زینب پرکوئی عدت نہیں ہے اوراس کو طلاق دینے کے بعد اس کی بہن سے نکاح جائز ہے۔اﷲ تعالٰی نے فرمایا تمہارے حق میں دخول سے قبل مطلقہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع