30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے:
|
وجوبھا من احکام الخلوۃ سواء کانت صحیحۃ ام لاط ای اذاکانت فی نکاح صحیح اما الفاسد فتجب العدۃ بالوطء کما سیأتی۔[1] |
عدت کا وجوب خلوت کے احکام میں سے ہے خلوت صحیحہ ہویا فاسدہ ہو،طحاوی،یعنی صحیح نکاح میں یہ حکم ہے لیکن فاسد نکاح میں صرف وطی سے عدت لازم ہوتی ہے،جیسا کہ عنقریب آئے گا۔(ت) |
مدارك شریف میں ہے:من
|
قبل ان تمسوھن والخلوۃ الصحیحۃ کالمس٢[2] اھ ورأیتنی کتبت علی ھامشھا الاولی ان یقول قدس سرہ والخلوۃ فی النکاح الصحیح کالمس فیقید النکاح بالصحیح ویطلق الخلوۃ لان الخلوۃ وان فسدت توجب العدۃ اذاصح النکاح،اماالفاسد فلاعدۃ فیہ الا بحقیقۃ الوطء کمافی الدر وغیرہ[3]،واﷲتعالٰی اعلم۔ |
قبل ازیں کہ تم ان کو مس کرو(یعنی جماع کرو)اور خلوتِ صحیحہ بھی جماع کی طرح ہے اھ اور مجھے یاد آرہا ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ پر یہ لکھا ہے کہ بہتر تھا کہ صاحب مدارك یوں کہتے اور خلوت نکاح صحیح میں جماع کی طرح ہے اس طرح نکاح کو صحیح کی قید سے مقید اور خلوت کو مطلق قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ جب نکاح صحیح ہو تو خلوت فاسدہ بھی عدت کو لازم کرتی ہے لیکن نکاح فاسد میں صرف حقیقی وطی سے ہی عدت لازم ہوتی ہے جیسا کہ در وغیرہ میں ہے، واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ٦٧تا٧٣: از شہر کہنہ بریلی
حضور والا! مسمّی جمن کا بیان ہے کہ۱میری لڑکی نابالغ کا نکاح میرے حقیقی بھائی نے بلارضا مندی میرے کردیا اور مجھ کو راضی کرکے رخصت کرادی،وہ لڑکی اپنے اس خاوند کے پس رہی اور نوبت مجامعت کی پہنچی،اس کے یہاں سے بعد کو رخصت ہوکرجس وقت کہ وہ اپنے باپ کے مکان پر آئی کہ اس کو عرصہ تین سال کا ہوا پھر کبھی نہ گئی حتی کہ نوبت نالش تك پہنچی، بالآخر اس نےا س کو فیصلہ پنچایت سے طلاق دی،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع