30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ٦٦: از بنگالہ ضلع سلہٹ ڈاك خانہ کمال گنج موضع پھولٹولی مرسلہ عبدالغنی صاحب ١٩شوال ١٣١٧ھ
کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے نکاح صحیح کیا،قبل از دخول بعد خلوتِ صحیحہ طلاق دی،اب عدت ہندہ پر واجب ہے یانہیں؟ایك جگہ عالمگیری سے مفہوم ہوتا ہے کہ واجب ہے،
|
رجل تزوج امرأۃ نکاحاجائز افطلقھا بعد الدخول او بعد الخلوۃ الصحیحۃ کان علیھا العدۃ کذافی فتاوٰی قاضی خان[1]۔ |
کسی نے ایك عورت سے صحیح نکاح کیا پھر دخول کے بعد طلاق دی یا خلوتِ صحیحہ کے بعد طلاق دی تو اس عورت پر عدت لازم ہوگی جیسا کہ فتاوی قاضی خاں میں ہے۔(ت) |
اور دوسری جگہ عالمگیری سے مفہوم ہوتا ہے کہ اگرچہ بعد خلوت صحیحہ کے ہو عدت واجب نہیں،
|
اربع من النساء لاعدۃ علیھن المطلقۃ قبل الدخول [2]الخ۔ |
چار عورتیں ہیں جن پر عدت نہیں ان میں سے ایك قبل از دخول طلاق والی ہے الخ(ت) |
اور کلام مجید میں ایك جگہ یوں ہے:
|
اِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوۡہُنَّ مِنۡ قَبْلِ اَنۡ تَمَسُّوۡہُنَّ فَمَا لَکُمْ عَلَیۡہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوۡنَہَا ۚ [3]۔ |
جب تم مؤمن عورتوں سے نکاح کرکے قبل از دخول ان کو طلاق دے دو تو تمہارے حق میں ان عورتوں پر عدت نہیں۔ (ت) |
الجواب:
صورت مستفسرہ میں عدت واجب ہے اور عالمگیری کی دونوں عبارتوں میں تنافی نہ آیہ کریمہ عبارت اولٰی کی نافی،اصل یہی ہے کہ موجب عدۃ مس ودخول یعنی وطی ہے مگر نکاح صحیح میں مجرد خلوت اگرچہ صحیحہ ہو ایجاب عدت کے لئے قائم مقام وطی ہے،تنویر میں ہے:
|
الخلوۃ کالوطء فی العدۃ [4](ملخصًا)۔ |
عدت کے معاملے میں خلوت کا حکم وطی والاہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع