30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں لایا تو اس پر فرض قطعی ہے کہ عورت کو ترك کردے وقت ترك سے عورت تین حیض کی عدت کرے اس کے بعد شوہر اول بے حاجت تجدید نکاح اس سے مترتب کرسکتا ہے،یہ اس تقدیر پر کہ شخص ثانی نے عورت سے صحبت یعنی مجامعت کرلی ہو،ورنہ حاجتِ عدت نہیں،درمختار میں ہے:
|
لاعدۃ لو تزوج امرأۃ الغیر ووطئھا عالما بذٰلك وفی نسخ المتن ودخل بھا ولابد منہ وبہ یفتی ولہذا یحد مع العلم بالحرمۃ لانہ زنا والمزنی بھا لاتحرم علی زوجھاالخ[1]۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
غیر کی منکوحہ سے نکاح کے بعد وطی کرنے سے عدت لازم نہ ہوگی بشرطیکہ اسے معلوم ہو کہ عورت غیر کی ہے اور متن کے نسخوں میں"دخل بھا"(اس نے دخول کیا ہو)کا لفظ ہے جبکہ یہ قید ضروری ہے۔اور فتوی اسی پر دیا جائے گا۔اس لئے علم کے باوجود اس حرام کاری پر حد لگائی جائے کیونکہ یہ زناہے اور زناوالی عورت اپنے خاوند پر اس وجہ سے حرام نہیں ہوتی الخ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ٦٥: از موضع ٹانڈا پر گنہ بہیٹری معرفت پیارے میاں ٢١جمادی الاخری ١٣١٥ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین،ایك شخص اپنی قضا سے فوت ہوگیا اور اس کی بیوی کو حمل تھا،بعد اس کے مرجانے کے ایك مہینہ کے بعد وہ حمل ساقط ہوگیاتو اس عورت کو عدت کرنا چاہئے یااس حمل کے گرجانے سے عدت جاتی رہی اور وہ حمل چار یا پانچ مہینہ کا تھا اہلِ شرع کیا فرماتے ہیں ؟
الجواب:
سائل نے ظاہر کیا کہ اس کے ہاتھ پاؤں بن گئے تھے تو ا س کے گرجانے سے عدت تمام ہوگئی اب عدت کی حاجت نہیں،
|
فی ردالمحتار اذااسقطت سقطا ان استبان بعض خلقہ انقضت بہ العدۃ لانہ ولد والافلا[2]۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
ردالمحتار میں ہے حاملہ کا حمل ساقط ہوجائے تو اگر بچے کے کچھ اعضاء کی تخلیق ظاہر ہوتی ہوتو پھر اس سے عدت ختم ہوگئی کیونکہ یہ مکمل بچہ شمار ہوتا ہے اور اگر ابھی اعضاء ظاہر نہ ہوئے ہوں تو عدت ختم نہ ہوگی۔واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع