30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وفی الدرالمختار فی احکام النکاح الفاسد،تجب العدۃ بعد الوطی لاالخلوۃ وقت التفریق او متارکۃ الزوج [1]اھ ملخصًا۔ |
اور درمختار کے احکامِ نکاح فاسد میں مذکور ہے کہ فاسد نکاح میں وطی کے بعد عدت لازم ہوگی،صرف خلوت سے لازم نہ ہوگی اور یہ عدت یا خود خاوند کی طر ف سے متارکہ کے وقت سے شروع ہوگی اھ ملخصًا(ت) |
اور جو ایك بار بھی جماع کرچکا ہے تو جس دن بکر نے چھوڑ ا اس دن سے عورت پر عدت واجب ہوئی جب تك اس کی عدت سے نہ نکلے دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی،اور عدت طلاق کی چار مہینے دس دن نہیں یہ عدت موت کی ہے،طلاق کی عدت تین حیض کا مل ہیں یعنی بعد طلاق کے ایك نیا حیض آئے،پھر دوسرا،پھر تیسرا،جب یہ تیسرا ختم ہوگا اس وقت عدت سے نکلے گی اور اسے جس سے چاہے نکاح کرنا روا ہوگا،
|
قال اﷲ تعالٰی وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍؕ [2]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:مطلقہ عورتیں تین حیض مکمل ہونے تك اپنے آپ کو روکے رکھیں۔(ت) |
مسئلہ٦٤: ازمتھرا محلہ مہوپورہ مرسلہ رمضان خاں ١٣شعبان ١٣١٢ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین کہ ایك شخص کی زوجہ منکوحہ ایك عرصہ سے بوجہ کسی خاص رنجی کے بلاطلاق اپنے شوہر سے علیحدہ ہوکر اور خلافِ مرضی اس کے کہیں چلی گئی اور کسی غیر شخص سے اپنا عقد کرلیا بالفعل وہاں سے بھی نکل کر پھر شوہر اول سے عقد چاہتی ہے اور طلاق ہر دو شوہروں کی جانب سے ثابت نہیں،پس قابلِ استفسار یہ امر ہے کہ اب شوہر اول سے عقد قائم رہے گا یا عقدِ جدید کی ضرورت ہے یا اس کے سوا کوئی اور شرعی صورت ہے؟بینواتوجروا
الجواب:
عقد قدیم قائم ہے جدید کی کچھ حاجت نہیں،دوسرا شخص جس نے اس منکوحہ غیر سے نکاح کیا اگر آگاہ تھا کہ یہ منکوحہ غیر ہے جب تو عدت کی بھی ضرورت نہیں کہ یہ زنا تھا اور زنا کی عد ت نہیں،درمختار میں ہے:لاعدۃ للزّنا [3](زنا کی عدت نہیں ہوتی۔ت)اور اگر وہ واقف نہ تھا عورت کو خالی و حلال سمجھ کر نکاح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع