30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ٦٣: ٤رجب مرجب ١٣٠٧ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو طلاق دی ایامِ عدت منقضی نہ ہوئے تھے صرف بیس پچیس دن بعد بکر نے اس سے نکاح کرلیا،چار برس بعد بکر نے بھی طلاق دی،اب شخص ثالث اس سے نکاح کیا چاہتا ہے،یہ نکاح طلاق کے چار مہینے دس دن بعد ہو یا فورًا ہوسکتا ہے کہ بکرنے قبل انقضائے عدت نکاح کرلیا تھا جو شرعًا نادرست تھا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اگربکر نے یہ جان بوجھ کر کہ ابھی عورت عدت میں ہے اس سے نکاح کرلیا تھا جب تو وہ نکاح نکاح ہی نہ ہوا زنا ہوا،تو اس کے لئے اصلًا عدت نہیں اگرچہ بکر نے صدہا بار عورت سے جماع کیا ہوکہ زنا کاپانی شرع میں کچھ عزت ووقعت نہیں رکھتا عورت کو اختیار ہے جب چاہے نکاح کرلے،
|
فی ردالمحتار عن البحرالرائق اما نکاح منکوحۃ الغیر ومعتدتہ فالدخول فیہ لایوجب العدۃ ان علم انھا للغیر لانہ لم یقل احد بجوازہ فلم ینعقد اصلا ولھذا یجب الحدمع العلم بالحرمۃ لکونہ زنا کما فی القنیۃ وغیرہا۔[1] |
ردالمحتار میں بحرالرائق سے منقول ہے کہ غیر کی منکوحہ بیوی یا غیر کی مطلقہ عدت والی سے نکاح کے بعد دخول سے عدت لازم نہ ہوگی بشرطیکہ اسے معلوم ہو کہ عورت غیر کی ہے کیونکہ اس نکاح کے جواز کا کوئی بھی قائل نہیں ہے لہذا یہ نکاح ہی اصلًا منعقد نہ ہوا،یہی وجہ ہے کہ یہ معلوم ہونے پرکہ یہ غیر کی منکوحہ ہے اس کے باوجود نکاح اور دخول پر حدِ زنا لازم ہوگی کیونکہ یہ زنا ہے جیسا کہ قنیہ وغیرہ میں ہے۔ (ت) |
اور اگر بکر نے انجانی میں نکاح کیا تو یہ دیکھیں گے کہ اس چار برس میں ا س نے عورت سے کبھی جماع کیا ہے یانہیں،اگر کبھی نہ کیا تو بھی عدت نہیں،بکر کے چھوڑتے ہی فورًا جس سے چاہے نکاح کرلے،
|
ففی البحر فی امثلۃ النکاح فسد ولم یبطل نکاح المعتدۃ [2]الخ وقیدہ الشامی بما اذالم یعلم بانھا معتدۃ لما مرعن البحر، |
بحر میں ایسے نکاح جو فاسد ہو ں مگر باطل نہ ہو ں کی مثالوں میں غیر کی معتدہ کا نکاح ذکر کیا ہے۔اھ اور علامہ شامی نے اس کو غیر کی معتدہ کا علم نہ ہونے کے ساتھ مقید کیا ہے جیساکہ بحر کے حوالے سے گزرا، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع