30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایسے کہے تھے اس وقت خواہ اس کے بعد،جن سے اس کا عزم اس پر سمجھا جائے کہ اب ا س عورت کو کبھی نہ رکھے گا اور ان الفاظ کے کہنے کے بعد اس عورت کو تین حیض شروع ہوکر ختم ہوگئے تو یہ اور جگہ نکاح کرسکتی ہے،اور اگر ایسے الفاظ ثابت نہ ہوں تو اب عورت کہہ دے میں نے اس نکاح کو رد کیا جو بہنوئی سے کرلیا تھا اس کے بعد حیض دیکھ کر دوسرے سے نکاح کرلے۔درمختار میں ہے:
|
مبدؤھافی النکاح الفاسد بعد التفریق اواظہار العزم علی ترك وطئھا[1]۔ |
نکاح فاسد کی عدت کی ابتداء تفریق کے بعد یا خود خاوند کے متارکہ کے بعد ہے،متارکہ یہ کہ خاوند نے عورت سے وطی کے ترك پر اپنے عزم کا اظہار کردیا ہو۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
ویثبت لکل واحد منھما فسخہ ولو بغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولافی الاصح[2]۔ |
خاوند اور بیوی دونوں کو فاسد نکاح میں فسخ کا اختیار ہے،دونوں کو یہ اختیار دوسرے کی موجودگی کے بغیر بھی ہے دخول کیا ہو یانہ،اصح روایت یہی ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قال فی البحر ورجحنا فی باب المھر انھا(ای المتارکۃ) تکون من المرأۃ ایضا اھ والمقدسی تابع البحر[3] اھ۔ اقول: وحققنا فیما علقنا علیہ ان الفساد ان کان مقارنا کما ھٰھنا کان لکل فسخہ والمتارکۃ غیرہ وان کان طارئا تفرد بہ الزوج۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
بحر میں فرمایا ہے کہ ہم نے باب المہر میں عورت کی طرف سے متارکہ کو بھی جائز ہونے کی ترجیح ذکر کی ہے اھ اور مقدسی نے بحر کی اتباع کی ہے اھ اقول:(میں کہتا ہوں)میں نے ردالمحتارکے حاشیہ میں یہ تحقیق کی ہے کہ اگر نکاح کا فساد ابتداءً نکاح سے مقارن ہو جیسے یہاں ہے تو پھر خاوند اور بیوی دونوں کو فسخ کا اختیار ہے اور متارکہ کا حکم علیحدہ ہے،اور اگر نکاح کا فساد بعد میں طاری ہوتو پھر صرف خاوند کا اختیار ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع