30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے سامنے نکاح نہ ہونے کو نکاح نہ ہونا سمجھ لینا سخت سفاہت ہے،عدم علم،علم عدم نہیں۔دنیا میں بے شمار زوج وزوجہ ہیں کیا ہم سب کے عقد میں حاضر تھے۔پھر ہم کیونکر انہیں ناکح و منکوحہ سمجھتے ہیں،شرع مطہر بدگمانی کو سخت حرام فرماتی ہے،اور جب وہ شرعًا زن وشوہر قرار دئے گئے تو بے انقضائے عدت نکاح بنصِ قطعی قرآن ناجائز وحرام۔یہاں تك کہ بعض علماء نے فرمایا کہ اس عقد پر اصلًاکوئی حکم نکاح مترتب نہ ہوگا کہ معتدہ غیر سے دانستہ نکاح کرناباطل محض ہے۔ردالمحتار میں ہے:
|
فی البحر عن المجتبٰی اما نکاح منکوحۃ الغیر و معتدتہ فالدخول فیہ لایوجب العدۃ ان علم انھا للغیر لانہ لم یقل احد بجوازہ فلم ینعقد اصلا[1]۔ |
بحر میں مجتبٰی سے منقول ہے کہ غیر کی منکوحہ بیوی یا غیر مطلقہ عدت والی سے نکاح کے بعد دخول سے عدت لازم نہ ہوگی بشرطیکہ وہ جانتا ہو کہ یہ غیر کی منکوحہ یا معتدہ ہے کیونکہ اس نکاح کے جواز کا کوئی بھی قائل نہیں ہے لہذا یہ نکاح ہی اصلا منعقد نہ ہوا۔(ت) |
ہاں اگر صورتِ مذکورہ نہ ہواور ان کا زانی وزانیہ ہونا متحقق ہو تو بیشك یہ نکاح صحیح ہوگیا کہ زنا کے پانی کی شرع میں کوئی حرمت نہیں نہ زانیہ پر زنا کی عدت،یہاں تك کہ جس عورت کو زنا کا حمل ہوغیر زانی کو بھی باوجود حمل اس سے نکاح جائز،البتہ ازانجا کہ حمل غیر ہے تاوضع حمل جماع ناجائز ہے،درمختار میں ہے:
|
صح نکاح حبلی من زنا وان حرم وطؤھا حتی تضع لئلایسقی ماءہ زرع غیرہ[2]۔واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔ |
زنا سے حاملہ عورت کے ساتھ نکاح جائز ہے اگرچہ نکاح کے بعد وطی حرام ہے تاوقتیکہ بچے کی پیدائش ہو تاکہ غیر کی کھیتی کواپنے پانی سے سیراب کرنے والا نہ بنے۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ٦٢: از شہر بریلی ١١رمضان المبارك ١٣٣٧ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت رانڈ ہوگئی،رانڈ اپنے بہنوئی کے پاس گئی اور بہن بھی موجود تھی بہنوئی نے اس کا بھی نکاح اپنے ساتھ کرلیا،اب کئی سال سے اس عورت کو نکال دیا،استعفار وغیرہ نہیں دیا،اب وہ عورت اور جگہ نکاح کرنا چاہتی ہے،نکاح جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
بہن کی موجودگی میں بہنوئی سے نکاح حرام حرام سخت حرام ہوا،بہنوئی نے کہ اس کو نکالا اگر کوئی لفظ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع