30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صور ت طلاق تعرف براء ت رحم کے لیے ہے قبل خلوت براءت خود معلوم پھر عدت کیوں ہو اور عدتِ وفات میں صرف یہی مقصود نہیں بلکہ موت شوہر کا سوگ بھی۔اور اس میں خلوت ہونے نہ ہونے کو کچھ دخل نہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لایحل لامرأۃ تؤمن باﷲ والیوم الاٰخر ان تحد علی میت فوق ثلث لیا ل الاعلی زوج اربعۃ اشھر وعشرا [1]۔رواہ البخاری ومسلم عن ام المومنین ام حبیبۃ و زینب بنت جحش رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اﷲاورآخر پر ایمان رکھنے والی عورت کےلئے حلال نہیں کہ وہ خاوند کی موت کے بغیر کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ کرے،صرف خاوند کے موت کے لئے چار مہینے دس دن سوگ ہے۔اس کوبخاری اور مسلم نے ام المومنین ام حبیبہ اور زینب بنت جحش رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ٥٩:ازقصبہ کریالی تحصیل کھاریاں ضلع
گجرات پنجاب ڈاکخانہ سرائے اورنگ آباد مسئولہ غلام یسین صاحب ١١ محرم ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر شیر
خوارہ مسماۃ نور بانو کا نکاح ہمراہ مسمی عمرو جس کی عمر پچیس سال ہے کردیا،بعد
نکاح کے اس دختر شیر خوارہ کو اس کی والدہ ایك مکان میں جہاں عمرو جس کے ساتھ
مسماۃ نور بانو شیرخوارہ کا نکاح ہوا تھا مع عمرو کے چھوڑ کر کہیں باہر چلی گئی اس
کے بعد جب والدہ شیر خوارہ واپس آئی عمرو نے اس شیرخوارہ منکوحہ
خود کو طلاق بائن دے دی،آیا خلوتِ صحیحہ ثابت ہوئی یا نہ؟ اور اس مطلقہ شیرخوارہ
پر عدت لازم ہوئی یانہ اور مستحقِ مہر ہوئی یانہ؟بینواتوجروا
الجواب:
خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی،نہ عدت لازم آئی،نصف مہر دینا ہوگا،درمختار میں ہے:لاعدۃ بخلوۃ الرتقاء[2] (ناقابل جماع بیوی کی خلوت پر عدت نہیں ہے۔ت)جامع الرموز میں ہے:
|
لوطلقھا قبل الدخول او بعد الخلوۃ الفاسدۃ والفساد لعجزہ عن الوطی |
اگر جماع سے پہلے یا خلوتِ فاسدہ کے بعد طلاق دی ہو اور فساد مثلًا یہ کہ خاوند وطی سے حقیقۃً عاجز ہو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع