30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے وہ سرآنکھوں پر کوئی دلیل عقلی ضرور ہونی چاہئے تاکہ دونوں صورتوں میں تمیز ہوجائے کوئی مسئلہ شرعی ایسا نہیں جو کسی اصول پر مبنی نہ ہوعقل کاحکم تو یہی ہے کہ جو عورت ہمبستر نہ ہو اس پرعدت کی ضرورت نہیں پھر چار ماہ دس دن کے انتظار کی کیاضرورت یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّعَشْرًاۚ [1](وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ت)محض ظہور حمل کےلئے چار ماہ دس دن کا انتظار ہے،سو صورت ہذا میں نہ خلوت نہ حمل فتاوی عالمگیری اکثر جزئیات سے مملو ہے جو جزئی چا ہو اس میں نکال سکتے ہیں شاید اس میں اس خاص جزئی کا ذکر ہو لیکن دلیل عقلی کی ازحد ضرورت ہے۔بینواتوجروا(بیان کیجئے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
اس پر چار مہینے دس دن عدت فرض ہے اس سے پہلے نکاح بلکہ نکاح کی گفتگو بھی حرام
ہے۔درمختار میں ہے:
|
وللموت اربعۃ اشھرو عشرا مطلقا وطئت اولا ولو صغیرۃ اوکتابیۃ تحت مسلم ولو عبد افلم یخرج عنھا الاالحامل[2]۔ |
موت کی عدت مطلقا چارماہ دس دن ہے بیوی مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ اگرچہ نابالغہ ہویا کتابیہ مسلمان آزاد کے نکاح میں ہو یا مسلمان غلام کے نکاح میں،صرف حاملہ کا حکم اس سے علیحدہ ہے کہ اس کی عدت وضع حمل ہے(ت) |
احکام الٰہی میں چون وچرا نہیں کرتے،الاسلام گردن نہادن نہ کہ زبان بجرأت کشادن(اسلام،سر تسلیم خم کرنا ہے نہ کہ دلیری سے لب کشائی کرنا۔ت)بہت احکام الٰہیہ تعبدی ہوتےہیں اور جو معقول المعنی ہیں ان کی حکمتیں بھی من وتو کی سمجھ میں نہیں آتیں۔صبح کو دو،مغرب کی تین،باقی کی چار چار رکعتیں کیوں ہیں،تعرف براءت رحم کےلئے ایك حیض کافی تھا تین اگر احتیاطًا رکھے گئے تو عدت وفات حیضوں سے بدل کر مہینے کیوں ہوئی اور ہوتی تو تین مہینے ہوتی جس طرح آئسہ وصغیرہ میں تین حیض کی جگہ تین مہینے قائم فرمائے ہیں ایك مہینہ دس دن اور زائد کیوں فرمائے گئے،غرض ایسے بیہودہ سوالوں کا دروازہ کھولنا علوم وبرکات کا دروازہ بند کرنا ہے،مسلمان کی شان یہ ہے:
|
سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا٭۫ غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیۡکَ الْمَصِیۡرُ﴿۲۸۵﴾[3]۔ |
ہم نے سنا اور اطاعت کی،تیری بخشش کے طلبگار ہیں اور تیری طرف ہی لوٹنا ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع