دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 13 | فتاوی رضویہ جلد ۱۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۳

مسئلہ ٥٧:                       از موضع کیسر پورضلع بریلی مسئولہ خدا بخش انصاری                     ٢ ربیع الآخر١٣٣٩ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا نکاح ایك بیوہ عورت سے مقرر ہوا،جس وقت نکاح ہوا برادری کےلوگ جمع ہوئے اور ان کے روبرو عاقد نے دریافت کیا کہ اس عورت میں کوئی نقص یا جھگڑا تو نہیں ہے تو اس میں دو شخصوں نے کہا کہ کچھ نہیں بیوہ ہے آپ نکاح پڑھا دیں،آخر کلام نکاح ہوگیا اب جس وقت شب کو خلوت ہوئی تو معلوم ہوا کہ عورت حاملہ ہے،آخر پولیس کو خبر ہوگئی تو داروغہ پولیس نے عورت سے دریافت کیا،اس نے جس کا حمل تھا اس کو نہ بتایا اور شخص کانام لے دیا،پولیس نے اس کے سپرد کردیا،اور اہلِ برادری میں کئی شخص اس بیوہ کو جانتے تھے مگر پوشیدہ رکھا ظاہر نہ کیا،اب شرع شریف سے جس کے گھروہ عورت ہے اس کو کیا حکم ہے اور عاقد وکیل و شاہدوں کےلئے کیا حکم ہے؟

الجواب:

سائل کا بیان ہے کہ شوہر کے انتقال کے ڈیڑھ برس ہوا اور حمل وہیں کا معلوم ہوتا ہے،اس صورت میں جس شخص سے اس کا نکاح ہوا ہے اس پر لازم ہے کہ عورت کو اپنے سے جدا دوسرے مکان میں رکھے اور بچہ پیداہونے کا انتظار کرے،اگر شوہر کی وفات سے پورے دو برس کے اندر بچہ پیدا ہوجائے تو یہ نکاح باطل محض ہوا اور جولوگ واقف حال شریك نکاح تھے سخت گنہ گار ہوئے،بعد بچہ پیداہونے کے پھر یہ شخص اس سے نکاح کرسکتا ہے،اور اگر وفاتِ شوہر کو دو برس کامل گزرجائیں اس کے بعد بچہ پیدا ہو تو یہ نکاح صحیح ہوگیا دوبارہ نکاح کی حاجت نہیں،بچہ پیداہونے کے بعد اسے ہاتھ لگانا بھی جائز ہوجائے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ٥٨:                        از جلیسر ضلع ایٹہ بالائے قلعہ مسئولہ حکیم محمد احسن صاحب          ٤رمضان ١٣٣٩ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ہندہ نے نکاح کیا جس کو ابتك چھ ماہ ہوئے،بعد تین ماہ کے اس کا خاوند مرگیااور اس کو خلوتِ صحیحہ نہیں ہوئی اب تك اپنے ماں باپ کے یہاں ہے،مدت عدت وفات کی دو صورتیں ہیں،یاوہ بعد وفات کے حاملہ ہے یا حمل کا انتظار ہے،بہر حال اس کو حمل نہیں ہوا،نیز ایام معمولی آتے ہیں،مدت چار ماہ دس دن محض اس غرض سے تھی کہ اس عرصہ میں ظہور حمل ہوجائے گا،اس صورت میں وہ قبل از عدت وفات عقدِ ثانی کرلے یا بعد گزرنے چارماہ دس دن کے نکاح کرے،عدت طلاق تین قروء ہیں،اگر اس کو خلوتِ صحیحہ نہیں ہوئی تو اس کو تین قروء کی ضرورت نہیں،بعد طلاق فورًا عقد کرسکتے ہیں،علیٰ ہذا صورت مسئولہ کی شکل بھی یہی ہے،جبکہ وہ خاوند کے یہاں نہیں گئی اور خلوتِ صحیحہ نہیں نصیب ہوئی تو پھر عدتِ وفات کی کیاضرورت ہے،بہر حال دونوں صورتیں ایك ہیں،لہذا جو حکم شرع


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن