30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پانچویں ہلال پر وقت وفات شوہر کے اعتبار سے دس دن کامل اور گزرجائیں اورپہلی تاریخ کے سوا اور کسی تاریخ میں مرا تو ایك سوتیس١٣٠ دن کامل لئے جائیں اور مطلقہ اگر حیض والی ہے تو بعد طلاق تین حیض شروع ہوکر ختم ہوجائیں اور اگر صغیرہ کہ ابھی حیض نہیں آتا یا کبیرہ کہ حیض آنے کی عمر گزرگئی تو عدت تین مہینے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٥٥: از شہر یکم ذیقعدہ ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی کانکاح نابالغی میں کردیا تھا چونکہ لڑکی اس لڑکے کے قابل نہ تھی لہـذا اس نے ہرطرح کی تکلیفیں پہنچائیں؟لڑکی کے والدین نے اسے اپنے گھررکھ لیااس لڑکے نے چار بار برادروں کو جمع کرکے کہا میں طلاق دے دوں لیکن برادروں نے اسے باز رکھا،اب جبکہ اس نے دوسرا نکاح کرلیا تو برادروں نے طلاق دلوادی،تو ایسی صورت میں عدت معتبر ہوگی یانہیں؟
الجواب:
اگر لڑکی قابل جماع تھی اگرچہ خاص اس مرد کے قابل نہ ہو اور خلوتِ صحیحہ ہوچکی تھی عدت لازم ہے ورنہ نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ٥٦: مولٰنا حافظ حشمت علی صاحب لکھنوی طالب علم مدرسہ اہلسنت بریلی ١٠محرم ١٣٣٩ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو طلاق دے دی بوجہ اس کی بدچلنی کے۔ہندہ طلاق کے بعد عمرو کے پاس رہی اور ہندہ کو عمرو سے حمل رہ گیا،عمرو نے ہندہ کے ساتھ بعد گزرنے ایام عدت نکاح کرلیا اور بعد نکاح عمرو کو اس بات کا علم ہواکہ ہندہ کو مجھ سے حمل ہے،آیا یہ نکاح جائز ہے اور یہ کہ بعد طلاق،نکاح کے واسطے عدت کا زمانہ کیا ہے؟
الجواب:
طلاق کی عدت حیض والی کے لئے تین حیض ہیں جو بعد طلاق شروع ہوکر ختم ہوجائیں،اور جسے حیض ابھی نہیں آیا یا حیض کی عمر سے گزرچکی اس کے لئے تین مہینہ اور حمل والی کے لئے وضع حمل۔یہ احکام قرآن عظیم میں منصوص ہیں اور عمرو نے جو قبل عدت اس سے تعلق کیا اور حسب بیان سائل اس سے حمل رہ گیا تو وہ کون سے ایام عدت تھے جو اس نے گزارے،اس کی عدت تین حیض تھے،اور حاملہ کو حیض آتا نہیں،اور حاملہ کی عدت وضع حمل ہے،اور ابھی وضع حمل ہوا نہیں،یہ نکاح فاسد ہوا،اس پر فرض ہے کہ عورت کو فورًا الگ کردے اور انتظار کیا جائے اگر یہ بچہ طلاق شوہر سے دو برس کے اندر پیدا ہوتو شوہر ہی کا ہے اور اب وہ عدت سے نکلی اس سے نکاح ہوسکتا ہے اور دو برس کے بعد پیدا ہوتو شوہر کا نہیں اب نکاح ہر حال جائز ہوگا۔واﷲتعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع