30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نیتہ ووقع مانواہ لانہ کنایۃ والاینو شیأ او حذف الکاف لغا وتعین الادنی ای البر یعنی الکرامۃ[1]اھ وفی الھندیۃ عن الخانیۃ وان نوی التحریم اختلفت الروایات فیہ والصحیح انہ یکون ظہار عند الکل [2]اھ وفی ردالمحتار عن العلامۃ خیر الدین الرملی وینبغی ان لایصدق قضاء فی ارادۃ البراذاکان فی حالۃ المشاجرۃ و ذکر الطلاق [3]اھ،واﷲ تعالٰی اعلم۔
|
تعظیم زوجہ یا طلاق یا ظہار کی نیت کی ہوتو اس کی نیت صحیح ہوگی اور نیت کے مطابق حکم ہوگا کیونکہ یہ کنایہ ہے(لہذا اگر خاوند نے طلاق کی نیت کی ہوتو طلاق بائنہ ہوگی)اور اگرکوئی نیت نہ کی ہو یا حرف تشبیہ کو ترك کردیا ہوتو یہ کلام لغو ہوکر احتمالات میں سے ادنی احتمال یعنی عزت وکرامت متعین قرار پائے گا اھ،اور ہندیہ میں خانیہ سے منقول ہے کہ اگر حرام کرنا مراد ہو تو اس میں روایات مختلف ہیں اور صحیح یہی ہے کہ سب کے ہاں ظہار ہوگا اھ، ردالمحتار میں علامہ خیرالدین رملی سے منقول ہے:مناسب ہوگا کہ اس صورت میں کرامت وعزت والااحتمال مراد لینے کی قضاءً تصدیق نہ کی جائے جبکہ لڑائی جھگڑے اور طلاق کے مذاکرہ کے وقت یہ الفاظ کہے ہوں اھ،واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ٤٥:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر شوہر عادات زوجہ کو عادات محارم سے تشبیہ دے یا عورت اپنے اعضاء خواہ عادات کو محارم شوہر کے اعضاء وعادات سے تشبیہ دے تو ان صورتوں میں کفارہ لازم اور اس کی اداتك عورت حرام ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
تاوقتیکہ اپنی زوجہ یا اس کے ان اعضاء کو جن سے کل جسم تعبیر کیا جاتا ہے مثلًا عربی میں راس،ورقبہ،وظہر،وفرج،یا اس کے ایك جزوشائع مثل نصف،وربع،وثلث کو کسی محرم ابدی سے تشبیہ نہ دے ظہار نہیں ہوتا پس تشبیہ عادات زوجہ بعادات محارم موجب حرمت و کفارہ نہیں،
|
فی الدرالمختار ھو تشبیہ زوجتہ او مایعبربہ عنھا من اعضائھا او تشبیہ جزشائع منھا بمحرم |
درمختار میں ہے کہ بیوی کو یا اس کے کسی ایسے عضو کو جس سے اس کی ذات کو تعبیر کیا جاسکتا ہو یا غیر معین حصہ مثلًا نصف وغیرہ کو ابدی محرمات کے ساتھ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع