30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فشرب وھو صبی،فتزوج وھو بالغ وظن صھرہ ان الطلاق واقع،فقال ھذا البالغ آرے حرام است برمن قالواھذا اقرار منہ بالحرمۃ فتحرم امرأتہ وھو الصحیح لانہ ما اقربا لحرمۃ ابتداء وانما اقر بالسبب الذی تصادقا علیہ وذٰلك السبب باطل[1]،انتہی،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اس کے بعد اس نے نابالغی میں نوش کرلیا پھر اس نے بالغ ہونے پر نکاح کیا اور اس کے سسرال نے گمان کیا کہ اس کہنے پر طلاق ہوگئی،اس پر اس لڑکے بالغ نے کہا ہاں بیوی مجھ پر حرام ہے،تو فقہاء نے فرمایا چونکہ لڑکے نے حرام ہونے کا اقرار کیا ہے لہذا اس کی بیوی اس پر ابتداءً حرام ہوگئی،اور بعض نے فرمایا کہ حرام نہ ہوگی،اور یہی صحیح ہے کیونکہ اس نے ابتداء حرام ہونے کا اقرار نہیں کیا بلکہ سسرال کی بات پر اس نے یہ کہا ہے،اور سسرال والوں کے کہنے کا سبب بچپن کی بات ہے جوکہ باطل ہے کیونکہ نابالغ کی طلاق نہیں ہوتی انتہی،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ٤٤: از پیلی بھیت محلہ اشرف خاں مرسلہ عزیز الرحمان خاں ١٦ذیقعدہ ١٣١٢ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ کی ماں سے یہ بات کہی کہ تیری لڑکی تاحیات تیری،مثل اپنی بہن کے سمجھتا ہوں،تو اس میں کیا حکمِ شرع ہے؟بینواتوجروا
الجواب:
اگر ان لفظوں سے اس کی مراد ظہار یا تحریم تھی یعنی تیری حیات تك اپنی زوجہ سے ظہار کرتا ہوں یا تیری حیات تك اسے حرام سمجھتا ہوں،جب تو ظہار ہوگیا یعنی نکاح بدستور باقی ہے،مگر حیاتِ خوشدامن تك بے کفارہ دئے عورت کے پاس جانا بلکہ شہوت کے ساتھ ہاتھ لگانا بھی حرام ہوگیا،کفارہ ایك غلام آزاد کرنا،ار اس کی قدرت نہ تو دو مہینے کے لگاتارروزے،اس کی طاقت بھی نہ ہوتو ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کے مثل اناج یا اس کی قیمت دینا یا دونوں وقت پیٹ بھر کھانا کھلانا،جب تك ساس زندہ ہے بغیر کفارہ دئے عورت کو ہاتھ لگائے گا تو گنہگار ہوگا،تو بہ کرے،اور پھر نزدیك نہ ہو جب تك کفارہ نہ ادا کرلے،ہاں بعد انتقال خوشدامن ظہار جاتارہے گا،اور بے کفارہ عورت سے جماع حلال ہوجائے گا،پھر اگر ساس زندہ ہے اور یہ شخص کفارہ نہیں دیتا جس کے سبب عورت حلال ہوجائے تو منکوحہ اس پر دعوی کرسکتی ہے کہ یا تو کفارہ دے کر جماع کرے یا طلاق دے کہ عورت پر سے ضرر دفع ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع