30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب
زوجہ کو ماں بہن کہنا(خواہ یوں کہ اسے ماں
بہن کہہ کر پکارے،یا یوں کہے تو میری ماں بہن ہے،سخت گناہ وناجائز ہے۔
|
قال اﷲ تعالٰی مَّا ہُنَّ اُمَّہٰتِہِمْ ؕ اِنْ اُمَّہٰتُہُمْ اِلَّا الِّٰٓیۡٔۡ وَ لَدْنَہُمْ ؕ وَ اِنَّہُمْ لَیَقُوۡلُوۡنَ مُنۡکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوۡرًا ؕ[1] |
جو روئیں ان کی مائیں نہیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنا ہے اور وہ بیشك بری اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ |
مگر اس سے نہ نکاح میں خلل آئے نہ توبہ کے سوا کچھ اور لازم ہو،درمختار میں ہے:
|
الاینو شیأ او حذف الکاف لغا وتعین الادنیٰ ای البر یعنی الکرامۃ ویکرہ قولہ انت امی ویاابنتی ویااختی ونحوہ[2]۔ |
اگر کوئی نیت نہ کی یا حرف تشبیہ(کاف)کو ذکر نہ کیا ہوتو یہ نیت لغوہے اور احتمالات میں سے ادنیٰ احتمال یعنی عزت وکرامت متعین ہوگا اور یہ کہنا کہ تو میری ماں ہے یا میری بیٹی ہے یا میری بہن ہے یا اس کی مثل الفاظ،مکروہ ہیں۔ (ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قولہ حذف الکاف بان قال انت امی ومن بعض الظن جعلہ من باب زید اسد در منتقی عن القہستانی قلت ویدل علیہ مانذکرہ عن الفتح من انہ لابد من التصریح بالاداۃ[3]۔ |
قولہ کاف تشبیہ کو حذف کرنا مثلًا یوں کہتا ہے تو میری ماں ہے نہ کہ جیسے بعض نے گمان کیا کہ"زید اسد"کی طرح حرف تشبیہ کو محذوف ماناجائے،اور تشبیہ بببلیغ ہے جیسا کہ درمنتقی میں قہستانی سے منقول ہے قلت میں کہتا ہوں کہ حرف تشبیہ کے بغیر ہونے پر دلیل وہ ہے جو ہم عنقریب فتح سے نقل کریں گے کہ ظہار کےلئے حرف تشبیہ کا ذکر ضروری ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
انت امی بلاتشبیہ فانہ باطل وان نوی[4]۔ |
حرف تشبیہ کے بغیر"تومیری ماں ہے"کہنا اگرچہ طلاق کی نیت سے کہا باطل ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع