30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
باشد ودیگر ہیچ وزن دریں کار بمشابہ قاضی است لاشتراکھما کسائر الخلق فی قصر النظر علی الظہار واﷲ سبحنہ یتولی السرائر پس حمرا گر بگوشِ خود شنیدیا مرد عادل وثقہ اوراخبر رسانید کہ شوہرش ایں چنیں چانہ زدہ است ناچار خویشتن رازن مظاہر داند وتن بجماع در ند ہد و زید را بشہوت بوسہ چیدن ودر بر کشیدن ودست رسانیدن وشرمگاہ دیدن نگزار د نظر برفرج بے شہوت یا ہر غیر فرج اگرچہ سینہ وشکم اگرچہ بشہوت باکے نیست کما مرعن ردالمحتار پس اگر زید کفارہ ندہد وحمرا راازقصد جماع ودواعی جماع معاف نہ دارد وحمرا ہر چوں کہ تو اند خویشتن را از دست عــــہ اویعنی بعوض مہر خواہ ببدل مال دیگر طلاق از دستاند اگر بیند کہ طلاق ہم نمی دہد بپائے کہ دارد از خانہ گریزد وبحاکم رجوع آرد تا اورابالجبر بحبس وضرب بریکے از دو کار دارد فَاِمْسَاکٌۢ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ تَسْرِیۡحٌۢ بِاِحْسٰنٍؕ [1]کفارہ دہد یا طلاق وقد حرم علیہ ربہ ان یذرھا کالمعلقۃ،درردالمحتار فرمود المرأۃ کالقاضی اذا سمعتہ او اخبرھا عدل لایحل لھا تمکینہ والفتوی علی انہ لیس |
ظہار ہے اور کوئی بھی خواہ بیوی ہو وہ قاضی کی موافقت کرے گا کیونکہ وہ سب عام لوگوں کی طرح ظہار ہی سمجھیں گے،اور اﷲ تعالٰی ہی باطنی امور کا مالك ہے،پھر اگر حمرا نے اپنے کانوں سے سنا یا کسی عادل اور ثقہ آدمی نے اس کو اطلاع دی کہ اس کے خاوند نے یوں بات کی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو ظہار کی ہوئی سمجھے اور اپنے آپ کو زید سے جماع اور شہوت کے ساتھ اس کو ہاتھ لگانے،بوس وکنار کرنے اور شرمگاہ کو بنظر شہوت دیکھنے سے محفوظ رکھے،لیکن بغیر شہوت شرمگاہ یا کسی عضو کو مثلًا چھاتی،پیٹ اگرچہ شہوت سے چھوئے تو کوئی حرج نہیں جیسا کہ ردالمحتار کے حوالہ سے بیان گزرا ہے،پس اگر زید کفارہ نہ دے اور اس دوران حمرا سے جماع یا دواعی جماع کے متعلق باز نہ آئے تو پھر خود حمرا کو چاہئے کہ اپنے آپ کو اس کے قبضہ سے کسی مال کے عوض خواہ مہر کے بدلے طلاق حاصل کرے اور اگر طلاق نہ دے تو پھر جس طرح ممکن ہو اس کے گھر سے جدا رہے اور حاکمِ وقت سے شکایت کرے تاکہ وہ جبرًا اس کو باز رکھنے کےلئے قید کرے یاسزا دے اور دو کاموں میں سے ایك پر اس کو مجبور کرے کہ رکھنا ہوتو شریعت کے مطابق رکھے ورنہ اس کو آزاد کردے،یعنی کفارے یا |
عــــہ:مسودہ میں بیاض ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع