30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولو صغیرارضیعا او اصم ان صبیح بہ یسمع،والا لا،لافائت جنس المنفعۃ(ای البصر والسمع والنطق والبطش والسعی والعقل قھستانی،والمراد فوت منفعۃ بتمامھا)کالاعمی ومجنون الذی لایعقل والمقطوع یداہ اورجلاہ اویدورجل من جانب فان لم یجد مایعتق صام شہرین متتابعین قبل المسیس فان وطئھا ای المظاھر منھا فیھما ای الشھرین لیلااو نھارا عامدااو ناسیا استأنف الصوم فان عجز لمرض لایرجی برؤہ او کبر اطعم ای ملك ستین مسکینا کالفطرۃ قدر او مصرفا او قیمۃ ذٰلك وان اراد الاباحۃ غداھم وعشاھم جاز(ولوکان فیمن اطعمھم صبی فطیم لویجیزہ لانہ لایستوفی کاملا، المراد بالفطیم من لایستوفی فی الطعام المعتاد)[1] انتھت بالتلخیص۔ |
کفارہ کی ادائیگی تك ہوگی اھ تلخیصًا۔درمختار وردالمحتار میں ہے کہ کفارہ یہ ہے کہ غلام آزاد کرے اگرچہ غلام دودھ پینے والا بچہ یا ایسا جو بلند آواز کو سن سکے اور جو کوئی آواز نہ سن سکے تو وہ جائز نہیں اور بدنی منفعت(مثلًا دیکھنا،سننا،بولنا،پکڑنا،چلنا اور عقل سے کلیۃً محروم،جائز نہیں،قہستانی،اور بدنی منفعت فوت ہونے سے مراد یہ ہےکہ وہ کلیۃً فوت ہو)جیسے نابینا، مجنون بے عقل،دونوں ہاتھ،دونوں پاؤں یا ایك پاؤں یاا یك ہی جانب سے ایك ہاتھ اور پاؤں کٹا ہو،اور اگر غلام نہ پائے تودوماہ کے روزے پے درپے جماع سے قبل رکھے،اور اگرظہار والے نے ان دوماہ کے دوران دن یا رات کو،بھول کر یا قصدًا جماع کرلیا تو پھر نئے سرے سے دوبارہ دوماہ کے روزے رکھے،پھر اگر وہ مظاہر کسی ختم نہ ہونے والی مرض یانہایت بڑھاپے کی وجہ سے روزہ رکھنے پر قادر نہ ہوتو ساٹھ مسکینوں کو کھانا ملك کرے،اور یہ کھانا فطر کی مقدار ہے اور مصرف بھی صدقہ فطر والا ہوگا یا اتنی مقدار غلہ کی قیمت دے دے اور اگر کفارہ کی مقدار کو مسکینوں کی ملکیت کی بجائے دو وقت کا کھانا پیٹ بھر کر کھلادے تو جائز ہے(اگر مسکینوں میں کوئی شیرخواری سے فارغ بچہ ہوتو اس کو شمار نہ کرے کیونکہ وہ پوری خورا ك نہیں کھاسکتا،اور شیر خواری سے فارغ بچے سے مراد یہ ہے کہ وہ پوری عادیخوراك نہ کھاسکے)اھ، ملخصًا (ت) |
[1] ردالمحتار،باب الکفارۃ،داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٥٧٩ ودرمختار،باب الکفارۃ،مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٥٠
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع