دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 13 | فتاوی رضویہ جلد ۱۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۳

اور اگر روز ہائے پیہم بروہ است شصت مسکین را طعامے ہمچو صدقہ فطر رساند یعنی بہر مسکین صاعے از جو یانیم صاع گندم یا قیمت اینہا تملیك کند یا شصت مسکین را کہ خوراك معتاد انسان جوان خوردن توانند شاموپگاہ شکم سیر خوراند چوں ایں چنیں کند حمرابر وحلال شود واگر مراوزید بایں کلمات مجرد حرمت حمرا بر خود بود بے قصد طلاق وظہار یعنی اورادر محبت تو برخود چناں حرام میدانم تاہم ظاہر خواہد شد وہماں احکام کفارہ در کار،واگر ہیچ نیت نہ داشت ہمیں سخنے بود کہ بے قصد معنی برزبان راند آنگاہ ہیچ لازم نیا ید حمرا بدستور در نکاح وجماع ودواعی جملگی مباح ہمچناں اگر کلام مذکور بایں قصد گفت کہ زن خود در بروکرامت بجائے مادر وخواہر خویش میدانم تاہم چیزے لازم نیست۔

 

 

 

 

در تنویر الابصار ودرمختار و ردالمحتار فرمودہ اند ان نوی بانت علی مثل امی اوکلامی وکذا لوحذف علی"خانیۃ"برا او ظہارا او طلاقا صحت نیتہ ووقع مانواہ لانہ کنایۃ (قال فی البحر واذانوی بہ الطلاق کان بائنا،وقال خیر الرملی و کذا لو نوی الحرمۃ المجردۃ ینبغی ان یکون ظہارا،

نہایت بڑھاپے یا کسی قوی مرض جس کے ختم ہونے کی امید نہ ہو اور روزہ رکھنے کی طاقت بحال ہونے کی امید بھی نہ ہوتو پھر ایسا شخص ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کی مقدار کھانا دے یعنی ہر مسکین کو ایك صاع جویانصف صاع گندم یا ان کی قیمت کا مالك بنائے یا ساٹھ مسکینوں کو صبح و شام پیٹ بھر کر کھانا کھلائے،جب یہ کام کرلے تو اس کی بیوی حمرااس کے لئے حلال ہوجائے گی،اور اگر زید نے ان کلمات سے صرف حمرا کا حرام ہونا مراد لیا ہو،اور طلاق یا ظہار کی نیت نہ کی ہو یعنی یوں کہاتیری محبت میں اس کو میں اپنے اوپر حرام جانتا ہوں۔تو بھی ظہار ہی ہوگا اور کفارہ لازم ہوگا،اور اگر اس نے ان کلمات سے طلاق،ظہار یا حرام ہونا کچھ مراد نہ لیا اور صرف زبان پر یہ کلمات بغیر نیت جاری ہوگئے تو پھر زید کے ذمہ کچھ نہ ہوگا،اور حمرابدستور اس کی بیوی ہوگی اس سے جماع اور دواعی جماع سب مباح ہوں گے،اور اگر زید نے ان کلمات سے یہ نیت کی ہو کہ حمرا میرے لئے ماں اور بہن کی طرح کرامت والی ہے تو بھی کچھ لازم نہ آئے گا۔(ت)

تنویر الابصار،درمختار اور ردالمحتار میں فرمایا ہے اگر بیوی کو یوں کہاکہ تو مجھ پر میری ماں کی مثل یامیری ماں کی طرح ہے او یوں ہی اگر"علی"(مجھ پر)کا لفظ حذف کردے خانیہ۔ان الفاظ سے اگر تعظیم زوجہ یا طلاق یا ظہار کی نیت کی تو اس کی نیت صحیح ہوگی اور نیت کے مطابق حکم ہوگا کیونکہ یہ کنایہ ہے۔(بحرمیں فرمایا خاوند نے جب طلاق کی نیت کی تو طلاق بائنہ ہوگی۔اور خیرالدین رملی نے فرمایا:یوں ہی اگر صرف حرام ہونے کی نیت کی تو ظہار ہوگا،اور جھگڑے

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن