30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وفی غیرہ وجب الجزاء وسقط الایلاء والابانت بواحدۃ وسقط الحلف لو مو قتا لالوکان موبدافلو نکحھا ثانیا وثالثا ومضت المدتان من وقت التزوج فان نکحھا بعد زوج اٰخرلم تطلق وان وطئھا کفر لبقاء الیمین [1]۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
رجوع کرنے پر کفارہ لازم ہوگا،اور اگرکوئی شرط رکھی تھی تو وہ جزاء لازم آئے گی،اور ایلاء ساقط ہوجائیگا ورنہ قسم کو پورا کرنے پر بیوی ایك طلاق سے بائنہ ہوجائیگی اور حلف مقررہ وقت کیلئے ہو تو ختم ہوجائے گا اور اگر حلف ابدی ہوتو ختم نہ ہوگا،لہذا دوبارہ اور سہ بارہ نکاح کرنے پر ایلاء کی مدت پورا ہونے اور رجوع نہ کرنے پر دوسری اور تیسری طلاق سے بائنہ ہوتی رہے گی اور قسم کی مدت کا اعتبار نکاح کے وقت ہوگا لہذا اگر بیوی حلالہ کے بعد واپس اس کے نکاح میں آئے تو طلاق نہ ہوگی تاہم وطی کرنے پر کفارہ ضرور لازم ہوگاکیونکہ قسم ابدی ہونے کی وجہ سے باقی ہے،واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ٣٧: ڈالور فرسٹ ایچ روڈمکان ١٠١ مسئولہ ابوبکر ٧شوال ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کہتاہے کہ میں نے کتاب میں دیکھاہے کوئی شخص حنفی مذہب کے موافق اپنی عورت سے کسی معاملہ میں ان بن ہوگئی اور چہارحیض تك کچھ تعلق نہ رہا تو ایك طلاق ہوگی،پھر اس پر ایك اور حیض گزرنے سے دوسری طلاق ہوگی پھر ایك اور حیض گزرنے سے تیسری طلاق ہوگی،یہ صحیح ہے یانہیں؟
الجواب:
یہ محض بے اصل ہے اس کا پتا نہ مذہب حنفی میں ہے نہ کسی مذہب میں،اصل حکم جو ہے کہ یہ شخص اپنی عورت سے قربت کی قسم کھائے،رب عزوجل نے اسے چار مہینے کی مہلت دی ہے،اگر چار مہینے کے اندر قربت کرلے گا تو عورت نکاح سے نہ نکلے گی کفارہ دیناہوگا،اور اگر چار مہینے کامل گزرجائینگے تو ایك طلاق بائن ہوجائے گی،عورت نکاح سے نکل جائے گی،پھر دوسرے یا تیسرے مہینے کوئی طلاق نہ ہوگی،
|
لِلَّذِیۡنَ یُؤْلُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِہِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْہُرٍۚ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:وہ لوگ جو بیویوں سے ایلاء کرتے ہیں ان کی قسم کی مدت چار ماہ ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع