30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قولہ ولم یطأعطف تفسیر والمراد بالوطی حقیقتہ عند القدرۃ او مایقوم مقامہ کالقول عند العجز فالمراد ولم یفئی ای لم یرجع الی ماحلف علیہ١[1]اھ وفی الدر عجز عجز احقیقیا لاحکمیا کا حرام لکونہ باختیارہ عن وطئھا لمرض باحدھما او صغرھا او جبہ او عنتہ او بمسافۃ لایقدر علی قطعھا فی مدۃ الایلاء او لحبسہ لابحق ففیؤہ نحوقولہ بلسانہ فئت الیھا او ر اجعتك او ابطلت الایلاء او ر جعت عما قلت ونحوہ اھ [2]ملخصا۔ |
اس پر فرمایا کہ ماتن کا قول"ولم یطأ"(اور وطی نہ کی)عطف تفسیری ہے،اور وطی سے حقیقی جماع مراد ہے اگر قدرت ہو،اگر قدرت نہ ہو تو جماع کے قائم مقام مثلًا یہ کہنا کہ میں نے بیوی سے رجوع کرلیا،کہے،اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی قسم پر قائم نہ رہے اور قسم کو پورا نہ کرے تو کفارہ لازم آئے گا اھ،اور در میں ہے"عاجز ہوجائے"سے مراد حقیقی عجز ہے حکمی عجز نہیں جیسا کہ احرام کی حالت میں ہونا عجز حکمی ہے کیونکہ یہ عجز اختیاری ہے،بیوی سے وطی کے عجز کا مطلب یہ ہے کہ خاوند یابیوی کو مرض لاحق ہو،یا بیوی صغیرہ ہو،یا خاوند نامرد یا آلہ سے محروم ہے،یا اتنی دور مسافت ہے کہ قسم کی مدت میں اس کو طے کرنا،قدرت میں نہیں ہے،یا ناحق قید میں ہے،تو ان صورتو ں میں بیوی سے رجوع زبانی کرے اور یوں کہے کہ میں نے بیوی سے رجوع کرلیا ہے یا میں نے ایلاء یعنی قسم کو باطل کردیا ہے،یا کہے میں نے قسم کھائی اس سے میں نے رجوع کرلیا ہے یا اس کی مثل الفاظ کہہ دے،اھ ملخصًا(ت) |
مگر ایلاء طلاق مغلظہ نہیں کہ حلالہ کی ضرورت ہو،عدت میں خواہ بعد عدت جب چاہیں باہم نکاح کرسکتے ہیں،ہاں اس سے پہلے کبھی دو طلاقیں دے چکا تھا تو آپ ہی حلالہ درکار ہوگا کہ اب یہ تیسری مل کر تین طلاقیں ہوگئیں یہ جدا بات ہے یا اگر(مدت عــــہ)کی قید نہ تھی بلکہ مطلق یا صراحۃً موبد تھا اور چار مہینے بے رجوع گزر گئے کہ ایك طلاق بائن پڑی پھر اس سے نکاح کرلیا اور پھر چار مہینے خالی گزرگئے تو دوسری پڑے گی پھر نکاح کرلیا اور یونہی چار مہینے گزرگئے تو تین طلاقیں ہوجائیں گی اور اب بے حلالہ نکاح میں نہ لاسکے گا،
|
فی التنویر فی الحلف باﷲ وجبت الکفارۃ |
تنویر میں ہے:ایلاء میں،اگر اﷲ کی قسم،کہ تو اس سے |
عــــہ:اصل میں کرم خوردہ ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع