30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عورت سے جماع کرے اور کچھ لازم نہ آئے،جب یہ پانچوں باتیں جمع ہوں گی ایلاء ہوگا اور ایك بھی کم ہوئی تو نہیں،مثلًا نہ قسم کھائی نہ تعلیق،خالی عہد کرلیا کہ عمر بھرتیرے پاس نہ جاؤں گا یہ کچھ بھی نہیں کہ خالی عہد سے کچھ نہیں ہوتا،یا قسم تعلیق توذکر کی مگر مدت چار مہینے سے کم رکھی اگرچہ ایك ہی ساعت کم،یہ ایلاء نہ ہوا،جتنی مدت کی قید لگائی ہے اس کے اندر جماع کیا تو بصورت قسم خاص کفارہ اور بصورت تعلیق روزہ وغیرہ جو کچھ لازم آنا کہا تھا خواہ مثل قسم کفارہ لازم آئے گا کہ یہ حکم تو اس قسم و تعلیق کا ہے،مگر مدت بے جماع گزرگئی تو عورت نکاح سے نہ نکلے گی جو خاص حکم ایلاء ہے،یونہی اگر تعلیق میں دو رکعت نماز لازم آنی کہے تو ایلاء نہیں کہ دورکعت میں کچھ مشقت نہیں،اگر مدت کے اندر پاس گیا تو دو رکعتیں پڑھنی ہوں گی اور مدت خالی گزرگئی تو کچھ نہیں،اور اگر تعلیق میں تلاوت قرآن وغیرہ اشیائے غیر لازمہ ذکر کیں تو محض مہمل،نہ مدت گزرنے پر طلاق پڑی نہ مدت کے اندر صحبت کرنے سے کچھ لازم،اسی طرح اگر یوں کہا کہ واﷲ میں اس میں تجھ سے وطی نہ کروں گا یا اس شہر میں تجھے کبھی ہاتھ لگاؤں تو مجھ پر سوحج لازم،یہ بھی ایلاء نہیں کہ جب اس گھر یا شہر کی تخصیص ہے توبغیر کچھ لازم آئے مفر موجود ہے جب چاہے اس گھر یاشہر سے باہر لے جاکر جماع کرسکتا ہے کچھ بھی لازم نہ آئے گا،بس بے جماع چار مہینے نہیں کتنی ہی مدت گزرجائے طلاق نہ ہوگی،ہاں وہ قسم یا تعلیق جھوٹی کی تو اس کا جرمانہ اسی طرح دیناہوگا کہ قسم خاص کفارہ اورتعلیق میں اختیار ہے چاہے وہ چیز بجالائے جو لازم مانی تھی چاہے قسم کے مثل کفارہ دے لے علی ہذا لقیاس جس جس صورت میں بغیر کچھ لازم آئے مفر ملتی ہو ایلا نہیں،ان سب قیود واحکام کی تصریح وتفصیل درمختار وردالمحتار میں ہے من شاء فلیرا جعھما (جس کا جی چاہے ان کی طرف رجوع کرے۔ت)پھر جب ایلاء متحقق ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ چار مہینے کے اندر اس عورت سے جماع کیا تو بتفصیل معلوم قسم کا کفارہ یا وہی امر شاق جس کا لازم آنا کہا تھا لازم آئے گا اور چار مہینے گزرگئے کہ اس سے جماع نہ کیا یا جماع مثلًا بوجہ مرض یا حبس یا دوری مسافت کہ مدت کے اندر عورت تك نہیں پہنچ سکتا ناممکن تھا تو زبانی رجوع نہ کیا مثلًا یوں نہ کہہ لیا کہ میں نے اپنی عورت کی طرف رجوع کی یا اپنے اس کہنے سے پھر گیا یا میں نے ایلاء باطل کردیا تو اس صورت میں عورت پر ایك طلاق بائن پڑجائے گی جس سے وہ خود مختار ہوجائے گی،
|
فی الدرحکمہ وقوع طلقۃ بائنۃ ان بر ولم یطأولزم الکفارۃ او الجزاء المعلق ان حنث بالقربان[1] فی رد المحتار |
در میں ہے کہ ایلاء کا حکم یہ ہے کہ اگر قسم پر قائم رہا اور وطی نہ کی تو طلاق بائنہ ہوجائے گی اور جماع کرنے پر کفارہ لازم ہوگا یا اگر کسی چیز کو معلق کیا تھا تو جماع کرنے پر وہ جزاء لازم ہوگی۔ردالمحتار میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع