30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
امام اجل برہان الملۃ والدین در ہدایہ فرماید ان کان الشرط لایعلم الا من جھتھا فالقول قولھافی حق نفسھا مثل ان یقول ان حضت فانت طالق وفلانۃ فقالت قد حضت طلقت ھی ولم تطلق فلانۃ ووقوع الطلاق استحسان،والقیاس ان لایقع لانہ شرط فلا تصدق کما فی الدخول،وجہ الاستحسان انہا امینۃ فی حق نفسھا اذلایعلم ذلك الامن جھتھا فیقبل قولھا کماقیل فی حق العدۃ والغشیان ولکنھا شاہدۃ فی حق ضرتھا بل ھی متھمۃ فلایقبل قولھا فی حقھا[1]،در فتح القدیر ست شہادتھا علی ذٰلك شہادۃفرد واختبارھا بہ لایسری فی حقھا مع التکذیب [2]علامہ آفندی شامی در ردالمحتار فرماید قال فی البحر قید بمحبتھا لانہ لو علقہ بمحبۃ غیرھا فظاھر مافی المحیط انہ لابد من تصدیق الزوج
|
امام اجل برہان الملّۃ والدّین نے ہدایہ میں فرمایا اگر شرط ایسی ہو کہ اس کا علم صرف عورت کے بیان و اظہارپر موقوف ہوتو عورت کی بات معتبر ہوگی جس کا تعلق اس عورت کی ذات سے ہو،مثلًا کہا اگر تجھے حیض آئے تو تجھے طلاق ہے اور فلانی کو بھی،اب اس عورت نے کہ مجھے حیض آیا ہے،تو اس کو خود طلاق ہوجائیگی دوسری فلانی کونہ ہوگی، اس کو طلاق ہونا بطور استحسان ہے جبکہ قیاس یہ ہے کہ طلاق نہ ہو،کیونکہ یہ شرط ہے جبکہ شرط کے وقوع میں صرف عورت کی بات معتبر نہیں ہوتی جیسا کہ دخول وغیرہ کی شرط میں،استحسان کی وجہ یہ ہے کہ اپنے معاملہ میں وہ امین متصور ہوگی کیونکہ معاملہ ایسا ہے جس کا علم اس کے بیان پر موقوف ہے اس لئے اس کی ذات کے بارے میں اس کی بات معتبر ہوگی،جیسا کہ عدت اور اس سے وطی کے متعلق اس کی بات معتبر ہوتی ہے لیکن اس کی یہ بات سوکن کے حق میں شہادت بنتی ہے ببلکہ تہمت متصور ہوتی ہے اس لئے سوکن وغیرہ دوسری عورت کے بارے میں اس کی یہ بات معتبر نہیں ہوگی اور قبول نہ کی جائےگی۔فتح القدیر میں ہے:عورت کی گواہی دوسری عورت کے بارے میں یہ ایك فرد کی گواہی بنتی ہے تو اس لئے اس کی یہ بات دوسری پر اثر انداز نہ ہوگی تہمت کی وجہ سے اس کو جھوٹ قرار دیا جاسکتا ہے۔علامہ آفندی شامی نے ردالمحتار |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع