30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علی شیئ[1]۔ امام حافظ الدین محمد کردری در وجیز کتاب الایمان فصل تاسع فرماید ان اذن ولم تسمع لایعتبر عند الامام ومحمد رحمہما اﷲ تعالٰی،وفی الصغری،لاتخرجی الا برضائی اوبغیررضائی فاذنھا ولم تسمع او سمعت ولم تفھم لایحنث بالخروج،بخلاف الاباذنی اوبغیر اذنی حیث یحنث لان الرضا یتحقق بلاعلمھا والاذن لایتحقق[2]۔
ہمدراں ست لایشرب الاباذنہ فناولہ القدح بیدہ ولم یقل بلسانہ شیأ فشرب یحنث لانہ دلیل الرضا،لاالاذن،لاتخرج امرأتہ الا بعلمہ فخرجت وھو یراھا لایحنث،وان اذن لھا بالخروج فخرجت بعدہ بلاعلمہ لایحنث[3]۔ |
چیز ہے دل کو کسی ایك چیز پر قرار نہیں۔(ت)(١؎ امام حافظ الدین محمد کردری نے وجیز کتاب الایمان کی نویں فصل میں فرمایا:اگر اذن دیا اور دوسرے نے نہ سنا تو یہ اذن معتبر نہ ہوگا،یہ امام اعظم اور امام محمد رحمہمااﷲکا مسلك ہے،صغری میں ہے:خاوند نے بیوی کو کہا تو میری رضا کے بغیر باہر نہ جائیگی،تو اس کے بعد خاوند نے بیوی کو اجازت دی مگر بیوی نے نہ سنا،یا سنا ہے لیکن سمجھی نہیں تو بیوی نکل جانے سے حانث نہ ہوگی،اس کے برخلاف اگر اس نے بیوی کے نکلنے کو اذن پر موقوف کیا ہوتو مذکورہ صورت میں خلاف ورزی قرار پائے گی یعنی حانث ہوگی،کیونکہ رضابیوی کے علم کے بغیر بھی ہوسکتی ہے جبکہ اذن اس کے علم کے بغیر متحقق نہیں ہوسکتا۔(ت) اسی میں ہے:ایك نے دوسرے کو کہا"تو میرے اذن کے بغیر نہ پئے گا"اس کے بعد اس نے خود پانی کا پیالہ اس کے ہاتھ میں دے دیا لیکن زبان سے کچھ نہ کہا دوسرے نے پانی لیا تو خلاف ورزی ہوجائیگی اور وہ حانث ہوجائیگا(کیونکہ ہاتھ میں دینا رضا کی دلیل تو ہوسکتی ہے مگر اذن نہیں ہوسکتا)یونہی بیوی کو کہا"میرے علم کے بغیرباہرنہ جائے گی"پھر اس کے دیکھتے ہوئے اس کی عورت نکلی تو حانث نہ ہوگا،اور اگر اس کے بعد نکلنے کی اجازت زبانی دے دی تو اب علم کے بغیر بھی نکل جائے تو حانث نہ ہوگا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع