30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حالابرخے از کلمات علماء برخوانیم وانچہ گفتہ ایم بپایہ اثبات رسانیم،وباﷲ التوفیق۔
امام محقق علی الاطلاق در فتح القدیر کتاب الایمان فی مسائل متفرقہ فرماید،لو قال لامرأتہ کل امرأۃ اتزوجھا بغیر اذنك طالق فطلق امرأتہ طلاقا بائنا اوثلاثا ثم تزوج بغیراذنھا طلقت لانہ لم تتقید یمینہ ببقاء النکاح لانہا انما تتقید بہ لوکانت المرأۃ تستفید ولایۃ الاذن والمنع بعقد النکاح[1]۔
علامہ محقق زین بن نجیم د ربحرالرائق فرماید الاذن یطلع علیہ بالقول بخلاف المحبۃ [2]ملخصًا،ہمدان ست حقیقۃ المحبۃ والبغض امر خفی لایوقف علیھا من قبل احد لامن قبلھا ولامن قبل غیرھا لان القلب یتقلب لایستقر |
دوسرے نکاح کے وقت مہر النساء کی عدم رضا کا اثبات سوائے اس کے ممکن نہیں کہ مہر النساء خود بتائے اور یونس علی اس کی تصدیق کرے بلکہ اصل دارومدار یونس علی کے اقرارپر ہے اگر اس کا یہ اقرار پایاجائے تو فوری طور پر دوسرے نکاح کو کرتے ہی دوسری غیر مدخولہ کو بیك وقت تین طلاقیں ہوجائیں گی،کیونکہ غیر مدخولہ بیوی بیك لفظ تین طلاقوں کا محل ہے اگرچہ متفرق طلاقوں میں تینوں کا محل نہیں،کیونکہ تعلیقات کاعمل پہلی بیوی کی زوجیت کی بقاء پر منحصر نہیں ہے اور اگر یونس علی کا اقرار نہ ہوتو خیر(یعنی طلاق نہ ہوگی)(ت) اب ہم علماء کا کچھ کلام بیان کرکے اپنے مذکورہ موقف کوثابت کریں گے وباﷲ التوفیق۔امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں کتاب الایمان کے مسائل متفرقہ میں فرمایا ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے جس عورت سے بھی تیری اجازت کے بغیر نکاح کروں تو اسے طلاق ہے،پھر اس شخص نے اپنی بیوی کو طلاق بائنہ دی یا تین طلاقیں دے دیں پھر اس نے اس دوران پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری عورت سے نکاح کیا تو دوسری کو طلاق ہوجائے گی کیونکہ اس نے حلف میں دوسری عورت سے ناکح کو پہلی بیوی کے نکاح کے باقی رہنے سے مقید نہیں کیا،اس سے مقید تب ہوتا جب پہلی بیوی اپنے نکاح کے وقت اذن یا منع کااختیار حاصل کرتی۔(ت)علامہ محقق زین بن نجیم نے بحرالرائق میں فرمایا اذن پر صرف قول کے ذریعہ اطلاع ہوسکتی ہے بخلاف محبت کے،اسی میں یہ بھی فرمایا کہ محبت اور بغض کی حقیقت مخفی معاملہ ہے اس پر مرد یا عورت کسی کی طرف سے واقفیت نہیں ہوسکتی،کیونکہ یہ دلی کیفیت ہے جو بدلتی رہتی ہے کیونکہ دل بدلتے رہنے والی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع