30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بلے غالب عادت زناں خاصہ دریں بلاد وزماں ہمانست کہ نکاح ثانی شوہر ان پسند نکنند اگرچہ خود آنہا طلاقہ شدہ باشند،امااین ظاہربآنکہ ظاہر واز جمعیت قاصر ست ضعیف ترست،بارہا زناں مطلقہ بلکہ معلقہ بدعا،آرزو کنند کہ شوہر پنجہ زنے بلایا سلیطہ کج ادا گرفتار آید تا کیفر کردار خود چشد وعذابے کہ ماراکردہ است خمیازہ اش کشد ورضا بچیزے را علم بآں چیزہم در وقت حدوث اورضروری نیست مثلًا پدر زید را تمنا است کہ زید بمنصب وزارت رسد در غیبت پدر وزیرش کردند گفتہ نشود کہ ایں وزارت بے رضائے پدرست پس وقوع ایں عقد بے اطلاع مہر النساء نیز محقق شرط نباشد،بالجملہ راہ باثبات ایں شرط نیست،جز باخبار مہر النساء مع تصدیق یونس علی،واصل کار ہماں اقرار یونس علی ست اگر یافتہ شد سہ طلاق بفور نکاح نقد وقت ثانیہ است کہ نامدخولہ محل سہ طلاق دفعی ست اگرچہ تفریق برنیابد کہ امتثال تعلیقات بزمان بقائے زوجیت زوجہ اولٰی مقتصر نیست ورنہ خیر۔
|
بدلتا رہتا ہے،پس پہلے یا بعد کی عدم رضا نکاح کے وقت ناراضگی دل کی دلیل نہیں بن سکتی،ہاں سابق ناراضگی استصحابِ حال اور بعد والی قیاس بن سکتی ہے،لیکن یہ سب کچھ ظاہری چیزیں جبکہ ظاہر واقع تو ہوسکتا مگر وہ مثبت نہیں بن سکتا بلکہ وہ سابق اور لاحق خود بھی ظاہر سے بڑھ کر نہیں ہیں،دل کی کیفیت تو اﷲ تعالٰی ہی جانتا ہے یہ جوکچھ ظاہر ہو ظاہری معاملہ ہے اور ضعف ہے جو کہ ضعف کا راستہ پاتا ہے بلکہ عین نکاح ثانی کے وقت بھی مہر النساء کا غصہ پایاجائے تو یہ بھی دلیل نہیں ہوسکتی کہ یہ دوسرے نکاح سے ناراض ہورہی ہے کیونکہ غصہ کی وجود کئی ہوسکتی ہیں ممکن ہے اس وقت نکاح عدم رضا کی وجہ سے نہ ہو،یہ معلوم کرنا کہ غصہ کی وجہ کیا ہے آخر کاردلیل اس کی یہی ہوسکتی ہے کہ مہر النساء نے دوسرے نکاح کے وقت غصہ کی باتیں کی ہیں یہ پھر بیوی کے بیان پر موقوف ہوا،اور درمیان میں گواہوں کی گواہی ناپیدرہی بلکہ تسلیم شدہ ہے کہ اس ملك میں موجودہ زمانے کی عورتوں کی عادت ہے کہ وہ خاوند کے دوسرے نکاح کو پسند نہیں کرتیں اگرچہ ان میں سے خود طلاق بھی حاصل کرچکی ہوں مگر یہ بات عادت بھی تو ظاہر معاملہ ہے اور نکاح کے وقت دل کی کیفیت پر دلالت قاصر اور ضعیف تر ہے،کیونکہ بارہا اور معلقہ عورتیں بدعائیں اور بری آرزوئیں کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ خاوند کا برا ہو اور کسی بری عورت کے پنجہ یا مصیبت میں گرفتار ہوتا کہ وہ اپنے کیفر کردار کو پہنچے اور اس نے جو مجھے تکلیف دی اس کا خمیازہ بھگتے،کسی چیز پر رضا کو یہ لازم نہیں کہ اس چیز کے حدوث اور وجود کاعلم بھی ہو مثلًا زید کے والد کی تمنّا ہے کہ زید وزارت کے منصب تك پہنچے جبکہ والد کی عدم موجودگی میں زید کو وزیر بنادیاجائے تو یہ نہ کہا جائے گا کہ یہ وزارت والد کی رضا کے بغیر دی گئی ہے(غرضیکہ رضاوعدم رضا پائے جانے کے باوجود یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ عین واقعہ کے وقت رضا موجود تھی)پس یونس علی کے دوسرے نکاح کامہر النساء کی اطلاع کے بغیر ہونا بھی شرط کا ثبوت نہیں بنتا،حاصل یہ کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع