30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مستلزم تحقق جزا وزوال عصمت است تسلیم او مرہون ثبوت شرعی است کہ اقرار زوج باشد یا اظہار بینہ اما البینۃ فلانھا کاسمھا مبینۃ،اما اعتراف الزوج فلانہ یملك الانشاء فلایزاحم فی الاخبار،تنہا بیان مہر النساء در حق زوجہ ثانیہ شنودن ندارد کہ بیان یك زن حجت شرعیہ نیست خاصۃدر حق ضرہ کہ محل تہمت ست واقدام یونس علی بریں عقد بے استئذان مہر النساء مثبت شرط نتواں شد کہ شرط عدم رضا بود نہ ترك استرضا،وشتان ماہما،ولہذا علماء گفتہ اند کہ در تعلیق بالرضاعلم برضا در کار نیست،مثلًا شوہر حلف بطلان کردہ مرزنش را گوید کہ بے رضائے من بیروں نروی باز آہستہ گفت برو،زن نشنید یا شنید ونفہمید وبیروں رفت طالق نہ شود کہ بے رضا نرفتہ است،گوخود برضا مطلع مباش بخلاف اذن کہ او نباشد الابقول مسموع ومفہوم تاآنکہ دلائل واضحہ رضانیز آں جابکار نیا یدمثلا حلف کند بے اذنِ زن نیا شامم زن کا سہ بدست خود گرفتہ نو شاند وبرزبان ہیچ نگفت یا گفت وشوے نشنود یا مفہومش نشد حانث شود کہ اذن متحقق نگشت، پس عدم اذن در محل شرط بہ بینہ ثابت تواں کردلان الشہادۃ علی النفی مقبولۃ فی الشروط اماباثبات عدم رضا ورغبت راہے نیست زیرا کہ او صفتے قلبی ست وعلمش از علوم غیبی، نہایت کار شہود چنگ بدلائل خارجہ زدن ست ودرہمچو |
پائے جانے کو مستلزم ہوگا جس سے نکاح ختم ہوجائے گا لیکن اس کو تسلیم کرنا شرعی ثبوت پر موقوف ہے اور ثبوت شرعی خاوند کا اقراریا شہادت ہے،شہادت اس لئے ضروری کہ وہ معاملہ کو واضح کرتی ہے،اور زوج کا اقرار اس لئے کہ خاوند ہی طلاق کو نافذکرنے کا مالك ہے،لہذا حال کی خبر وہ خود ہی دے سکتا ہے،تنہا مہر النساء کا بیان دوسری بیوی کے متعلق قابل سماعت نہیں ہے کیونکہ ایك عورت کا بیان شرعی حجت نہیں ہے خاص کر اپنی سوکن کے بارے میں کہ تہمت کا احتمال ہے اور یونس علی کا مہر النساء سے اجازت طلب کئے بغیر یہ دوسرا نکاح کرنا طلاق کی شرط کے پائے جانے کے لئے کافی نہیں ہے کیونکہ طلاق کی شرط مہر النساء کی عدم رضا ورغبت ہے نہ کہ اس سے اجازت طلب کرنا،جبکہ ان دونوں میں بڑا فرق ہے، اسی لئے علماء کرام فرماتے ہیں کہ رضا کے ساتھ مشروط امر کے پائے جانے میں رضا کا علم ضروری نہیں بلکہ رضا کا پایا جانا ہی کافی ہے،مثلا ایك شخص نے طلاق کا حلف کہتے ہوئے اپنی بیوی کو کہا کہ تو میری رضاکے بغیر باہر مت جا۔پھر آہستہ سے کہا جا،بیوی نے نہ سنا،یا سنا مگر سمجھا نہیں اور باہر چلی گئی تو طلاق نہ ہوگی،کیونکہ وہ رضا پر باہر گئی اگرچہ وہ خود رضا پر مطلع نہ ہوئی،اس کے برخلاف اگر رضا کی جگہ وہ اذن کا لفظ کہتا تو طلاق ہوجاتی کیونکہ اذن کے لئے ایسا قول ضروری ہے جو سنا اور سمجھا جاسکے حتی کہ وہاں اذن کی واضح دلیل بھی پائی جائے تو کار آمد نہ ہوگی،مثلًا خاوند نے بحلف کہا کہ میں بیوی کی اجازت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع