30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علاوہ اس کے قریب دو صد روپیہ کی مالیت کا زیور کہ ملکیت محمد شفیع تھی اس کے پاس موجود تھے غرضیکہ ہندہ اور اس کے ولی کو نسبت نان ونفقہ وعدم روانگی خرچ کوئی شکایت نہیں ہے اور سب اس سے رضا مند ہیں پاس سوال یہ ہے کہ بحالت صحت اقرار نامہ ایسی صورت میں ہندہ زوجیت سے خارج ہوئی یانہیں؟بینواتوجروا۔
نقل اقرار نامہ
منکہ محمد شفیع ولد عبدالقادر متوفی ساکن موضع سرائے بھنولی پر گنہ کچرانہ تحصیل کالو ضلع فیض آبادام،چونکہ باغوائے شیطان چند افعال ناجائز مجھ سے آج تك ہوتے رہے میں نے اپنی منکوحہ مسماۃ ہندہ بنت محمد ٰیسین خاں کے نان نفقہ سے بالکل غافل تھا حتی کہ میں نے آج تك ادنٰی ضرورت بھی اس کی رفع نہ کی اور خلافِ حکم خدا رسول(صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم)اس کے نان نفقہ سے بالکل بے خبر تھا،مگر اب میں اپنے افعال شنیعہ اور سرا سر غفلت وبے فکری سے توبہ کرتا ہوں اور آئندہ کے لئے اقرار کرتا ہوں کہ مطابق مرضی منکوحہ اور اس کے والدین کے ہر ایك فعل کی پابندی کرتا رہوں گا اور جو کچھ وہ لوگ کہیں گے اس پر عملدرآمد کروں گا اور اپنے گھر سے غیر ملك نہ جاؤں گا حسبِ اتفاق اگر غیر ملك جانے کے موقع نہ ہو اور میں چلا جاؤں تو اپنی منکوحہ کے نان ونفقہ کی خبر گیری کرتا رہوں گا اگر ایسی غفلت کروں یعنی اپنی منکوحہ کا نان نفقہ وخبر گیری نہ کروں تو وہ عدم خبر گیری میری بجائے طلاق ثلاثہ کے سمجھی جائے اور پھر مجھ کوکوئی عذر نہ ہوگا،لہذا یہ چند کلمات بطور اقرار نامہ کے لکھ دئے تاکہ سندرہے اور عندالضرورت کام آئے،فقط بقلم محمد فیض اﷲ٩جولائی ١٩١٥ء العبد محمد شفیع بقلم خود۔
الجواب:
فرصت غنیمت سمجھ کر دستخط کردیا جبر واکراہ نہیں مگر وہ اقرار نامہ بذاتہ خود ہی باطل و مہمل ہے،اگر محمد شفیع بے کسی قریب کے آپ ہی لکھتا اور پھر بلاضرورت غیر ملك کو چلاجاتا اور قصدًا بلاعذر خبر گیری زوجہ سے دستکش رہتا اور ایك پیسہ کبھی نہ بھیجتا جب بھی اس باطل اقرار نامہ کی رو سے اصلًا طلاق نہ ہوسکتی وہ اس میں طلاق نہیں کہتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ میری عدم خبر گیری کو بجائے طلاق ثلثہ سمجھا جائے،"یہ سمجھ کر"صریح باطل ہے عدم خبر گیری ایك طلاق بھی نہیں ہوسکتی نہ کہ تین طلاق کی جگہ اور باطل سمجھ کی اجازت دیں باطل،جیسے کوئی کہے اگر میں نہ آؤں تو دیوار کو طلاق سمجھ لینا کیا اس کے کہنے یا کسی کے سمجھ لینے سے دیوار طلاق بن جائے گی اور جب وہ اجازت وقول وفہم سب باطل ہے اور باطل پر کچھ اثر مرتّب نہیں ہوسکتا لہذا وہ اقرار نامہ مہمل ہے اور طلاق اصلًا نہ ہوئی،فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
|
لوقال الزوج دادہ انگار او قال کردہ انگار |
اگر خاوند نے کہا"تو طلاق ہوئی سمجھ"یا کہا"تو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع