30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
امرأۃ قالت لزوجھا مرا طلاق دہ فقال دادہ انگار او کردہ انگارلایقع وان نوی[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
میں خلاصہ سے منقول ہے کہ کسی عورت نے اپنے خاوند کو کہاکہ"مجھے طلاق دے"تو خاوند نے جواب میں کہا"تو اس کو طلاق دی ہوئی یا طلاق کی ہوئی سمجھ لے"تو طلاق نہ ہوگی اگر چہ اس سے طلاق کی نیت کی ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ٣٣و٣٤:از سرائے بھنولی ڈاك خانہ شاہ گنج ضلع فیض آباد
مرسلہ محمد فیض اﷲ صاحب ٢٠جمادی الاولی ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسائل ذیل میں:
(١)ایك اقرار نامہ مندرجہ ذیل مضمون کا لکھا گیا جس کے کل شرائط ولی ہندہ کے مقرر کئے ہوئے ہیں جو کہ مضمون اقرار نامہ سے صاف ظاہر ہے اور محمد شفیع کی طرف سے کوئی شرط مقرر نہیں کی گئی اور نہ اس کو قرار داد شرط کی اجازت دی گئی حالانکہ اقرار نامہ کے ایك لفظ سے بھی محمد شفیع کو اتفاق نہیں تھا اور نہ اس کا کوئی معاون وولی تھا کہ کچھ عذر کرتا،ولی ہندہ ایك زبردست واہل مقدور شخص ہے اس نے بالجبر محمد شفیع سے دستخط کرالیا،پس یہ اقرار نامہ شرعًا معتبرہے یاکہ غیر معتبر؟بینواتوجروا۔
(٢)قبل تحریر اقرار نامہ ولی ہندہ جو کہ بمقابلہ محمد شفیع ہر حالت میں بدرجہا زور آور واہل مقدور تھا بیکس وبے بس محمد شفیع سے بالجبر طلاق لینے پر آمادہ تھا مگر اس وقت محمد شفیع کچھ گریہ وزاری سے منت وسماجت کی کہ اس کا اثر اس پر کار گر ہواورنتیجہ یہ ہوا کہ طلاق سے تو باز رہے مگر اقرار نامہ مذکورہ ذیل پر دستخط کرالیا محمد شفیع نے اس فرصت کو غنیمت سمجھ کر دستخط کردیاکچھ دن کے بعد محمد شفیع رنگون چلا گیا اور تھوڑے عرصے تك حسبِ وسعت مبلغ بیس بچیس روپیہ ہندہ کو روانہ کیا مگر کچھ عرصہ تك بوجہ مجبوری خرچ روانہ نہ کرسکا البتہ خطوط روانہ کرتا رہا اور اسکے ذریعہ سے اپنی مجبوری ظاہر کرتا رہا اور بعد کو بھی تین چار روپیہ روانہ کیا اب محمد شفیع قریب ساڑھے تین سال کے بعد رنگون سے واپس آیا اور وجہ عدم ادائیگی خرچ میں یہ عذر بیان کیا کہ میں سخت جل گیا تھا اور کوئی امید زندگی نہ تھی،چنانچہ چھ ماہ میں ہسپتال میں پڑا رہا(جلنے کا حال زبانی آئند گان آنصوبہ سے بھی سنا گیا اور اب بھی اس کے جسم پر نشان دیکھا گیا یعنی موجود پایاگیا)اس حالت میں مبلغ پچاس روپیہ کا قرضدار ہوگیا بعد صحت چند روز بیکار رہااور جب کامیاب ہوا تو قرض ادا کیا بقیہ زادِ راہ میں صرف ہوا عدم روانگی خرچ سے ہندہ بوجہ اہل مقدور ہونے اپنے ولی کے محتاج نان ونفقہ نہ تھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع