30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اگرگواہ نہ ہوں یا وہ گواہ ثقہ شرعی نہ ہوں اور آدم مار پیٹ کرلے جانے کا اقراربھی نہ کرے تو آدم سے حلف لیا جائے اگر حلف کرے گا کہ مار پیٹ کر نہیں لے گیاتو طلاق نہ ہوگی اور اس حلف کا حاکم کے سامنے ہونا ضرور نہیں مکان پر بھی لیا جاسکتا ہے،درمختار میں ہے:
|
یکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ١[1]۔ |
بیوی کا خاوند سے اپنے گھر میں ہی قسم لے لینا کافی ہے۔(ت) |
پھر اگر حلف کرلے اور عورت جانتی ہو کہ اس نے جھوٹا کیا،تو عورت پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو تین طلاقوں سے مطلقہ سمجھے اور بوجہ طلاق نہ ثابت ہونے کے بذریعہ حکومت جبر نہیں کرسکتی لہذا اپنا مہر چھوڑ کر یا اور مال دے کر اس سے اعلانیہ طلاق لے،اگر طلاق نہ دے تو جس طرح جانے اس کے پاس سے بھاگے اور اگر اس پر بھی قدرت نہ ہوتو مجبور ہے اور وبال شوہر پر ہے،ردالمحتار میں ہے:
|
اذا سمعت اواخبرھا عدل لایحل لھا تمکینہ بل تفدی نفسھا بمال اوتھرب فان حلف ولابینۃ لھا فالاثم علیہ اذالم تقدر علی الفداء اوالھرب[2] (باختصار ) واﷲتعالٰی اعلم |
اگر خود عورت،مرد کی طرف سے تین طلاقیں سن لے،یا کسی عادل شخص نے اس کو یہ اطلاع دے دی تو پھر بیوی کو حلال(جائز)نہیں کہ وہ خاوند کو اپنے پر جماع کا موقعہ دے بلکہ جیسے بن پڑے مال دے کر اعلانیہ طلاق لے یا بھاگ کر اپنے کو بچائے،اور اگر خاوند طلاق نہ دینے کی قسم کھالے اور طلاق پر عورت کے پاس گواہ نہ ہوں اور بیوی مال کے بدلے یا بھاگ کر اپنے آپ کو نہ بچا سکے تو اب گناہ خاوند پر ہوگا (باختصار)۔واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ٣١: از جونپور مرسلہ مولوی عبدالاول صاحب ٢٨رمضان ١٣٣٨ھ
زید نے اپنی زوجہ کے کابین نامہ میں منجملہ شرائط ایك شرط یہ لکھی کہ اگر بغیر رجسٹری شدہ اجازت نامہ تم سے حاصل کئے ہوئے اور بغیر تمہارا کل مہر اداکئے ہوئے دوسرا نکاح کروں تو منکوحہ جدیدہ کومیری طرف سے تین طلاق ہوں گی،اب صورت حال یہ ہے کہ زوجہ نے مہر معاف کردیا اور اجازت نامہ نکاح بلارجسٹری شدہ شوہر نے حاصل کرکے دوسرا نکاح کرلیا،اب شرعًا اس مسئلہ میں کیا حکم ہے کہ اجازت نامہ بلارجسٹری شدہ ہے اور ایفائے مہر نہیں پایا بلکہ زوجہ نے معاف کردیا تو منکوحہ جدیدہ مطلقہ ہوگی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع