30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بدستور جاری وقائم رکھے اور بغرض مدد کرنے ناچ و گانے کے خواہ بداؤں سکونت رکھے یا دیگر جگہ قیام کرے میں کسی وقت اور کسی حالت میں مانع اور مزاحم یا حارج نہیں ہوں گا اگر میرے فعل یا ترك فعل سے کسی وقت میں مسماۃ مذکور کا نقصان یا حرج واقع ہوتو ایسی حالت میں نکاح فسخ ہوجائے گا اور مسمّاۃ کوہرقسم کی آزادی حاصل ہوگی لہذا یہ اقرار نامہ بلانالش لکھ دیا کہ سند رہے،واضح ہے کہ معاہدہ کرنے والا شریف خاندان کنچنے وغیرہ سے نہیں ہے اور ان الفاظ کی تحریر سے نکاح فسخ ہوجائے گا یانہیں اور شوہر اسے اجازت ناچنے وگانے کی اور دیگر جگہ اسے کام کے واسطے اجازت دے سکتا ہے یانہیں؟اور اسے اجازت جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
ایسی اجازت حرام قطعی ہے اور اجازت دینے والا دیّوث ہے،اگر توبہ نہ کرے تو اس پرجنت حرام،اور اس پر اﷲکی لعنت ہے۔رسول اﷲصلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ والدیوث ورجلۃ النساء[1]۔رواہ حاکم والبیہقی فی شعب الایمان عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما بسند صحیح۔ |
تین شخص جنت میں نہ جائیں گے اپنے ماں باپ کو ناحق ایذا دینے والا اور دیوث اور مردانی وضع بنانے والی عورت(اس کو حاکم نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ت) |
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
|
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ ابدا الدیوث والرجلۃ من النساء ومدمن الخمر[2]۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عن عمار بن یاسر رضی اﷲ تعالٰی عنہما بسند حسن۔ |
تین شخص کبھی جنت میں نہ جائیں گے دیوث اور مردانی وضع بنانے والی عورت اور شرابی(اس کو طبرانی نے کبیر میں سند حسن کے ساتھ عمار بن یاسر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔ت) |
اور فرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع